میلبرن میں دو نوجوانوں پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد

،تصویر کا ذریعہAP
آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں پولیس نے دہشت گردی کے ایک منصوبے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک 18 سالہ نوجوان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق کا کہنا ہے کہ یہ حملے دولت اسلامیہ کی تحریک سے متاثر ہو کر کیے جانے تھے۔
سنیچر کی صبح شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران پولیس نے پانچ افراد کو حراست میں لیا تھا۔
پولیس نے اب ان میں سے تین افراد کو رہا کر دیا ہے جبکہ سودت بسیم نامی لڑکے کو عدالت میں پیش کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سودت کے علاوہ زیرِ حراست دوسرے لڑکے کو بھی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزامات کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد آئندہ ہفتے پہلی جنگ عظیم کی یاد میں منعقد کیے جانے والی اینزیک میموریل کی تقریب پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ جن دو لڑکوں کو حراست میں رکھا گیا ہے ان کے ایک اور 18 سالہ لڑکے نعمان حیدر سے روابط بھی رہے تھے جسے پولیس نے دو اہلکاروں پر چاقو سے حملے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
سنیچر کی صبح شہر میں انسداد دہشت گردی کے آپریشن میں تقریبا 200 پولیس افسروں نے شرکت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نگراں نائب پولیس کمشنر نیل گوگھن نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس کو جو شواہد ملے ہیں اس کے مطابق یہ منصوبہ دولت اسلامیہ کے زیر اثر بنایا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں سے دو افراد پر دہشت گردی کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
ایک تیسرے 18 سالہ شخص کو ہتھیار رکھنے کے الزام پر جبکہ 18 اور 19 سال کے دو دوسرے نوجوانوں کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ ’دھار دار ہتھیار‘ سے حملہ کرنے والے تھے لیکن گوگھن کا کہنا ہے کہ ان کے منصوبے میں ’سر قلم‘ کرنے کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔
خیال رہے کہ اینزیک ڈے ایک سالانہ تقریب ہے جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فوجیوں کو یاد کیا جاتا ہے اور اس کی صد سالہ تقریب کے سلسلے میں کئی تقاریب ہو رہی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ میلبرن منصوبے میں پولیس کو بطور خاص نشانہ بنایا جانا تھا لیکن اس میں شہریوں کو بھی خطرہ لاحق تھا۔







