تھری ڈی پرنٹنگ والے ہتھیار ضبط

،تصویر کا ذریعہ
آسٹریلیا کی ریاست کوئنز لینڈ کے ایک علاقے میں پولیس نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے بنائے گئے ہتھیار ضبط کیے ہیں۔
ضبط شدہ ہتھیاروں میں آہنی مکے کی طرز پر بنے ہوئے پلاسٹک کے مکے اور کچھ ایسے پرزے شامل ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ پستول کے حصے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ یہ پستول کے حصے ہی ہیں تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ کسی گھر سے تھری ڈی پرنٹر سے بنائے گئے اسلحے کے پرزے ملے ہوں۔
2013 میں آسٹریلوی حکام نے تھری ڈی پرنٹ والے پستولوں کے استعمال سے منسلک خطرات کو اجاگر کرنے کے لیے ویڈیو جاری کیے تھے۔
اس سلسلے میں ایک 28 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اور مقامی پولیس کے انسپکٹر سکاٹ نولز کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ ہمارے اسلحے کے ماہرین نے ابھی ضبط شدہ اشیا کا جائزہ لینا ہے لیکن ہم نے اس میں ایک ہتھیار کے اہم اجزا کی شناخت کی ہے۔ ہماری نظر میں اس میں وہ تمام اجزا شامل ہیں جن کو جوڑ کر ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تھری ڈی ٹیکنالوجی کا خطرناک استعمال ہے، ان حصوں کو بنانے کے لیے جس مواد کا استعمال کیا گیا ہے وہ پستول بنانے کے لیے محفوظ نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق جس تھری ڈی پرنٹر سے ان حصوں کو پرنٹ کیا گیا ہے اس کے مالک نے اسے ایک شخص کو ٹھیک کرنے کے لیے دیا تھا اور اس شخص نے مالک کے علم میں لائے بغیر ان ہتھیار کے حصوں کو پرنٹ کیا ہے۔
گذشتہ سال آسٹریلیا کے سینیٹ نے پرتشدد کارروائیوں میں ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں تحقیقات کی تھیں جن کے دوران کچھ لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ملک کے قوانین کو نئی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید بنایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انسپکٹر سکاٹ نولز کا کہنا ہے کہ ریاست کے قوانین تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے اسلحہ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کافی ہیں۔
خیال رہے کہ اگرچہ تھری ڈی پرنٹر سے اسلحہ بنانے کے جرم میں گرفتاریاں نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن پچھلے سال جاپان میں ایک شخص کو اس جرم میں دو سال قید کی سزا ہوئی تھی۔







