’ویکسین نہیں تو پیسہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
آسٹریلیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے والدین کے لیے فلاح و بہبود کے تحت دی جانے والی رقم کو بند کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو اپنے بچوں کو ویکسین نہیں لگوانا چاہتے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیا میں ’ویکسین نہیں تو پیسہ نہیں‘ پالیسی کی وجہ سے والدین کو ہر سال فی بچہ 11 ہزار ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
<link type="page"><caption> ڈبلیو ایچ او پریشان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2015/02/150225_measles_who_atk" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ کے بعض حصوں سمیت بعض مغربی ممالک میں ویکسن مخالف تحریک مضبوط ہوئی ہے۔ وہاں بچوں کی بعض قابلِ انسداد بیماریاں جیسے خسرہ وغیرہ نے پھر سے سر ابھارنا شروع کر دیا ہے۔
آسٹریلیا میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا 10 فیصد بچوں کو ایسی بیماریوں سے حفاظت کے ٹیکے نہیں لگے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس منصوبے پر آئندہ سال سنہ 2016 کے اوائل سے عمل درآمد ہونا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ ’اس حکومت کی ’ویکسین نہیں تو پیسہ نہیں‘ کی پالیسی ہے۔ عوامی صحت کے تحت کیا جانے والا یہ ایک انتہائی اہم اعلان ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اپنے بچوں اور خاندان کو جہاں تک ممکن ہو محفوظ رکھنے کے لیے یہ انتہائی اہم قدم ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آسٹریلیا کے حالیہ قانون کے تحت جن لوگوں کو اپنے بچوں کے ٹیکہ لگائے جانے پر’متنازع اعتراض‘ ہے وہ بھی بچوں کی صحت کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کی رقم کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر نیا قانون منظور ہو جاتا ہے تو انھیں چائلڈ کيئر مراعات، ديگر فوائد اور فیملی ٹیکس فوائد وغیرہ سے محروم ہونا پڑے گا جو کہ تقریبا ساڑھے گیارہ ہزار ڈالر فی طفل سالانہ ہوتا ہے۔
تاہم ایسے لوگوں جو طبی یا مذہبی بنیادوں پر اپنے بچوں کو ویکسین نہیں دلانا چاہتے ہیں انھیں یہ فوائد حاصل ہوں گے لیکن ان کے لیے سخط ضوابط ہوں گے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوشل سروسز کے وزیر سکاٹ ماریسن نے کہا ہے کہ ابھی تک کسی اہم مذہب نے حکومت کے پاس ویکیسن کے خلاف اعتراض درج نہیں کرایا ہے۔







