ایبولا : ویکسین کی پہلی کھیپ لائبیریا روانہ

ایبولا سے بچاؤ کی ویکسین کا ابتدائی تجربہ 10 ہزار رضاکاروں پر ہوگا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایبولا سے بچاؤ کی ویکسین کا ابتدائی تجربہ 10 ہزار رضاکاروں پر ہوگا

ایبولا وائرس سے بچاؤ کے لیے تجرباتی ویکسین کی پہلی کھیپ لائبیریا پہنچائی جا رہی ہے۔

یہ پہلی کھیپ ہے جو اس مرض کے سب سے زیادہ شکار ممالک میں سے کسی ایک میں جائے گی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا کے مریضوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اس لیے یہ پتہ چلانا شاید مشکل ہوگا کہ اس ویکسین کے ذریعے وائرس سے بچاؤ کس قدر ممکن ہو گا۔

ویکسین امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت اور برطانوی کمپنی گلیکسو سمتھ کلائن (جی ایس کے) نے مل کر تیار کی ہے۔

جی ایس کے کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ایبولا سے بچاؤ کی ویکسین کی 300 خوراکیں جمعے کو موروویا پہنچائی جا رہی ہیں۔

کمپنی کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں ایبولا سے بچاؤ کی ویکسین پہلے رضاکار کو لگائی جائے گی۔

سائنس دان ہیلتھ ورکروں سمیت 30 ہزار رضاکاروں کو اس مہم میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اگر تمام کارروائی ضابطے کے مطابق جاری رہی تو دس ہزار رضاکاروں کو جے ایس کے کی ویکسین دی جائے گی۔

اگلے مرحلے میں مزید دس ہزار افراد پر اس ویکسین کا الگ تجربہ کیا جائے گا اور پھر حاصل ہونے والے نتائج کا یہ جاننے کے لیے موازنہ کیا جائے گا کہ آیا ویکسین مرض سے بچاؤ میں مددگار ہے یا نہیں۔

اس سے قبل مالی، سوئٹزرلینڈ، امریکہ اور برطانیہ میں اس ویکسین کا تجربہ 200 صحت مند رضاکاروں پر کیا گیا اور کمپنی کے مطابق اب تک اس کے مثبت نتائج آئے ہیں۔ تاہم وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کتنی موزوں ہے، یہ ایبولا سے متاثرہ ممالک کے ماہرین ہی بتا سکیں گے۔

جی ایس کے سے وابستہ ڈاکٹر مونسیف سلاؤئی کہتے ہیں کہ ویکسین کو بھجوانا ایک بڑی کامیابی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم ایبولا ویکسین لینے والوں تک پہنچنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہسپتال میں ہونے والے ابتدائی تجربات کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ تاہم کمپنی کی جانب سے یہ اصرار کیا جا رہا ہے کہ ابھی یہ ویکسین نشو و نما کے عمل میں ہے اس ویکسین کو عوامی سطح پر بطور مہم استعمال کرنے سے پہلے کے لیے عالمی ادارہ صحت اور اس سے منسلک اداروں کو اپنی تسلی کرنا ہو گی۔

لائبیریا، سیئرالیون اور گنی میں اگلے چند ماہ میں دیگر ویکسینوں کا تجربہ کیا جائے گا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اگلے چند ہفتوں میں ’زی میپ‘ نامی دوا کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تجربہ بھی کیا جائے۔