ایبولا کا زور ٹوٹنے لگا، مالی ایبولا وائرس سے پاک

،تصویر کا ذریعہReuters
افریقی ملک مالی میں حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں گزشتہ بیالیس دنوں میں کوئی شخص بھی ایبولا وائرس سے متاثر نہیں ہوا ہے لہذا ان کا ملک اب ایبولا وائرس سے پاک ہو چکا ہے۔
وزیر صحت عثمانے کونی نے اعلان کیا: ’میں اعلان کرتا ہوں کہ مالی سے ایبولا کی وبا ختم ہو گئی ہے۔‘ مالی میں ایبولا کا آخری مریض دسمبر میں صحتیاب ہو کر ہسپتال سے چلا گیا تھا۔
ایبولا سے متعلق تازہ معلومات کی روشنی میں اس مہلک وائرس کا زور ٹوٹ رہا ہے اور سے بری طرح متاثر ہونے والے تین ممالک، سیئرالیون ، لائیبریا اور گنی میں مریضوں کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
2014 میں مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا پھیلی جس سے اب تک آٹھ ہزار چار سو لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔اکیس ہزار اب بھی اس وائرس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایبولا وائرس متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے ابتدا میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعد میں آنکھوں اور مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسم کے اندر خون جاری ہو جانے سے اعضا متاثر ہو جاتے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ 90 فیصد تک لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے لائیبریا میں دو روز ایسے بھی تھے جب ایک بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا ہے۔ لائبیریا میں جون 2014 کے بعد یہ پہلی بار کوئی ایسا دن گزرا ہے جس دن ایبولا وائرس کا مریض سامنے نہیں آیا ہے۔
مالی میں ایبولا کا پہلا مریض اکتوبر 2014 میں سامنے آیا تھا جب پڑوسی ملک گنی سے تعلق رکھنے والا ایک بچہ وائرس کا شکار ہو کر زندگی کی جنگ ہار گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مالی میں ایک وقت میں تین سو لوگوں کی نگرانی کی جا رہی تھی۔
اقوام متحدہ کے اہلکار انتھونی بینبر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایبولا کی وبا 2015 میں ختم ہو جائے گی۔ ’اس سال کے آخر تک ایبولا کے کیسسز کی کی تعداد صفر ہو جائے گی۔‘







