’آسٹریلیا اقوام متحدہ کے لیکچر سے تنگ‘

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے پناہ کے متلاشی افراد کے تشدد اور ظلم سے محفوظ رہنے کے حق کی خلاف ورزی کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنرپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے پناہ کے متلاشی افراد کے تشدد اور ظلم سے محفوظ رہنے کے حق کی خلاف ورزی کی ہے

آسٹریلوی وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ ان کا ملک پناہ کے متلاشی افراد کے ساتھ برتاؤ پر اقوام متحدہ کی طرف سے دیے جانے والے درس سے تنگ آ چکا ہے۔

انھوں نے یہ بات تشدد کے لیے اقوامِ متحدہ کے خاص مندوب کی جانب سے آسٹریلیا میں پناہ گزینوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر تنقید کے بعد کی ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا ملک میں آنے والے پناہ کے متلاشی تمام افراد کو اس وقت تک مونس جزیرے پر حراست میں رکھتا ہے جب تک ان کے کیس کا فیصلہ نہ ہو جائے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مونس جزیرے پر حالات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں تشدد سے متعلق پیش کی جانے والی ایک نئی رپورٹ میں تشدد کے لیے اقوامِ متحدہ کے خاص مندوب جان منڈز نے 60 ممالک میں حکومتوں پر تشدد کے الزامات کی تحقیقات پیش کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا حراست میں رکھے گئے پناہ کے متلاشی افراد کو مناسب سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو حراست میں رکھنے اور مونس جزیرے پر کشیدگی کم کرنے میں ناکامی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے پناہ کے متلاشی افراد کے تشدد اور ظلم سے محفوظ رہنے کے حق کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

جب آسٹریلوی وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ سے اس رپورٹ کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں حقیقتاً یہ سمجھتا ہوں کہ آسٹریلیا کے لوگ اقوام متحدہ کے درس سے تنگ آ چکے ہیں۔ خاص طور جب ہماری پالیسی کی وجہ سے کشتیاں آنے رک گئی ہیں اور کشتیوں کو روکنے سے ہم نے سمندر میں اموات کا خاتمہ کر دیا ہے۔‘

ان کہنا تھا کہ گذشتہ حکومت کے دور میں جب انسانی سمگلنگ کا دھندا عروج پر تھا تو سینکڑوں افراد سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوتے تھے۔

آسٹریلوی وزیرِاعظم کا مزید کہنا تھا کہ انڈونیشیا کے راستے کشتی کے ذریعے آسٹریلیا میں آنے والے لوگوں کے بہاؤ کو روکنا ایک انتہائی انسان دوست اور سب سے زیادہ مہذب چیز ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔

مونس جزیرے پر حالات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’جزیرے پر خوراک، لباس، تحفظ اور رہائش سمیت لوگوں کی تمام ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔‘

خیال رہے کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا میں پناہ کے متلاشی دو افراد جنھوں نے اپنے ساتھ غیر مناسب سلوک کے شکایت کی تھی ان کی شکایات درست تھیں اور آسٹریلیا ان کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔