سری لنکا میں جنگی جرائم پر تحقیقاتی کمیشن

صدر میھتری پالا سریسینا راجہ پکشے کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنصدر میھتری پالا سریسینا راجہ پکشے کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے ہیں

سری لنکا کے صدر میھتری پالا سریسینا کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں 26 برس تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران مبینہ طور پر ہونے والے جنگی جرائم کی تفتیش کے لیے ایک مہینے کے اندر اندر ایک قومی کمیٹی تشکیل دیں گے۔

صدر پالاسریسنا نے یہ بات بی بی سی کو ایک خصوصی انٹریو میں بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو اس کمیٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا البتہ تفتیش کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے ان کی رائے ضرور لی جائے گی۔

صدر سریسینا سے پہلے ملک کے صدر مہندا راجاپکسے نے خانہ جنگی کے دوران جرائم سے متعلق تفتیش کرنے میں اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہمیشہ انکار کیا تھا۔

ملک میں 2009 تک 26 سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران فوج اور باغی تمل ٹائیگرز دونوں پر عوام کے خلاف ظلم کرنے کا الزام ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں 80 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جنگ کے آخری مہینوں میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی بھاری گولہ باری میں کئی ہزار تمل شہر ی ہلاک ہوگئے تھے ۔

صدر سریسینا نے بی بی سی کے نامہ نگار سروج پتھرینا کو بتایا ہے کہ یہ تفتیشی کمیٹی ’قانون کے دائرے میں رہ کر شفاف اور غیر جانبدارانہ طور پر اپنا کام انجام دے گی۔‘

سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو میں مقیم بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ صدر سریسینا بے حد سوچ سمجھ کر بات کرنے والے شخص ہیں اور متنازع صدر مہندا راجاپکسے سے مختلف شخصیت کے مالک ہیں۔

جن مسائل پر راجاپکسے بات کرنے سے گریز کرتے تھے، صدر سیریسینا نے ان پر بات کرنے کے دروازے تھوڑے ہی صحیح لیکن کھول دیے ہیں۔

سری لنکا ابھی بھی اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو جنگی جرائم کی تفتیش کرنے کے لیے ملک آنے کی اجازت نہیں دے گا لیکن صدر سریسینا نے جو کہا ہے کہ ’اس تفتیش کے دوران وہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی رائے لے گیں تاکہ تفتیش بہتر طریقے سے ہوسکے،‘ یہ اس سے پہلی والی حکومت کے موقوف سے بہت مختلف اور مثبت ہے۔

صدر سریسینا نے کہا ہے کہ ملک کی قومی سیکورٹی کونسل ان تمل افراد سے تفصیل میں بات کرے گي جو کسی الزام کے بغیر حراست میں ہیں۔ ان میں سے بعض کئی سالوں سے حراست میں ہے۔ نئے صدر کا کہنا ہے کہ تفتیش کار اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد ان افراد کی رہائی سے متعلق تجاویز پیش کریں گے۔

اس سے قبل جنگی جرائم کے مسئلے پر کھل کر بات کرنے اور اختلاف رائے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔

گذشتہ مہینے اقوام متحدہ نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ مبینہ جنگی جرائم سے متعلق رپورٹ ابھی تھوڑی دیر سے جاری کرے گا کیونکہ نئی حکومت پرانی حکومت کی بنسبت تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدر سریسینا نے جنوری میں اقتدار سنبھالا اور صدارتی انتخابات میں انہوں نے راجاپکسے کو حیران کن شکست دی تھی۔

اس برس ملک میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور ممکنہ طور پر مسٹر راجاپکسے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے صدر سیریسینا نے سنہالی ووٹروں کو خوش کرنے کے لیے گھریلو تفتیش میں اقوام متحدہ کی شمولیت سے انکار کیا ہو کیونکہ سنہالی عوام نہیں چاہتے کہ جنگی جرائم کے الزامات کی عالمی تفتیش ہو۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ انتخابات میں سریسینا کو بڑی تعداد میں تمل اور مسلمانوں کے ووٹ ملے تھے۔ اس لیے انھیں خانہ جنگی دوران ہونے والے مبینہ جنگی جرائم کی تفتیش اور ملک میں امن کے فروغ کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا دباؤ ہے۔