سری لنکا:لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی کارروائیاں جاری

سری لنکا کے وسطی علاقے میں مٹی کے تودوں تلے دب جانے والے درجنوں افراد کی تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
شدید بارشوں کے بعد ضلع بدولا میں پہاڑی ڈھلوانوں پر قائم چائے کے باغات کی تباہی اور مٹی کے تودے گرنے کا سلسلہ بدھ کو شروع ہوا تھا اور 140 مکانات ان تودوں کی زد میں آئے تھے۔
جمعرات کو بھی متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں زوروشور سے جاری رہیں تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملبے کی زد میں آنے والے مکانات تک رسائی نہیں ہو سکی ہے کیونکہ وہ ٹنوں پتھروں اور مٹی کے نیچے دبے ہیں۔
امدادی کارروائیوں میں فوج کے 500 جوان بھی شریک ہیں اور فوجی حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ خندقیں کھودنے کے لیے استعمال کی جانے والی پانچ بڑی مشینیں بھی جائے حادثہ پر پہنچا دی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ کتنے افراد تودے تلے دبے ہوئے ہیں لیکن اب ان افراد کے زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
کولمبو میں سری لنکا وزرا نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اندازاً 150 افراد ان تودوں تلے موجود ہیں جبکہ ایک مقامی اخبار نے یہ تعداد 250 بتائی ہے۔
تاہم سری لنکا میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر مہندرا امرویرا نے جائے حادثہ کے دورے کے بعد خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعداد 100 کے لگ بھگ ہے۔
متاثرین کی حتمی تعداد معلوم کرنا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ گاؤں کا تمام ریکارڈ بھی اسی لینڈسلائیڈ کی زد میں آ کر تباہ ہوگیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
سری لنکن وزیر مہندرا امرویرا کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کے اردگرد کے زمین بھی بارشوں کی وجہ سے مستحکم نہیں ہے اور وہاں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
ان کے مطابق اسی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اچانک زوردار آواز آئی اور پھر پہاڑی کا بڑا حصہ، چائے کے باغات پر آ گرا اور کچھ کارکنوں کے مکانات تیس فٹ مٹی اور گارے میں دب گئے۔‘
اس واقعے سے متاثر ہونے والے 300 سے زیادہ افراد نے بدھ کی رات مقامی سکولوں میں گزاری۔.
مقامی رکن اسمبلی ادت لوکوبندرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’بہت افسوسناک صورتحال ہے کیونکہ علاقے کے بہت سے بچے یتیم ہوگئے ہیں۔‘
ان کے مطابق دبنے والے زیادہ تر افراد وہ والدین تھے جو اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے کے بعد گھر واپس آئے تھے۔
سری لنکا میں آفات سے بچاؤ کے محکمے نے ملک کے کئی دیگر علاقوں میں بھی لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائڈنگ کے واقعات ہو سکتے ہیں۔
سری لنکا میں جون میں بھی مون سون کی بارشوں کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے 22 افراد ہلاک جب کہ ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔
مون سون کی بارشیں بحر ہند میں اٹھنے والی شدید ہواؤں کے باعث ہوتی ہیں۔







