ڈیٹا کی جانچ کے بعد ایم ایچ 370 کی تلاش کا مقام تبدیل

تلاش کی رہنمائی کرنے والے حکام نے کہا تھا کہ لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کی تلاش میں سال لگ سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتلاش کی رہنمائی کرنے والے حکام نے کہا تھا کہ لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کی تلاش میں سال لگ سکتا ہے

ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 کی تلاش کے لیے آسٹریلیا کی حکومت نے نئے علاقے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ اعلان سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مزید جانچ کے بعد کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے نائب وزیرِ اعظم وارن ٹرس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب تلاش کے کام کو آسٹریلیا کے مغربی ساحل کے جنوب کی جانب منتقل کیا جائے گا۔

ایم ایچ 370 ملائیشیا کے شہر کالالمپور سے بیجنگ کے لیے روانہ ہوئی تھی تاہم پرواز کے کچھ دیر بعد ہی جہاز لا پتہ ہو گیا۔

اس جہاز پر 239 افراد سوار تھے۔

حکام کا خیال ہے کہ یہ جہاز کریش ہونے سے قبل آٹو پائلٹ پر چلا گیا تھا۔

اس سے پہلے ملائیشیا کے لاپتہ طیارے کی تلاش کی رہنمائی کرنے والے حکام نے کہا تھا کہ لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کی تلاش میں سال لگ سکتا ہے۔

لاپتہ طیارے کے مسافروں کے رشتہ داروں نے بیجنگ میں دعائیہ تقریب میں حصہ لیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلاپتہ طیارے کے مسافروں کے رشتہ داروں نے بیجنگ میں دعائیہ تقریب میں حصہ لیا

لاپتہ طیارے کی تلاش کرنے والی مہم کے رہنما ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن کے بقول وہ پر اعتماد ہیں کہ ’موثر تلاش‘ کی بدولت وہ طیارہ ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ مختلف ممالک کے طیارے اور بحری جہاز سمندر میں ایم ایچ 370 کے کسی بھی قسم کے شواہد تلاش کرنے میں مصروف ہیں تاہم اب تک اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب طیارے کے بارے میں کسی بھی طرح کی معلومات کے حصول کے لیے ملائیشیا کے گمشدہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین نے رقم اکٹھی کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے۔

بدقسمت طیارے کے مسافروں کے گھر والوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وہ ’اس شخص کی حوصلہ افزائی کے لیے کم از کم پچاس لاکھ ڈالر اکٹھے کرنا چاہتے ہیں جسے اندر کی خبر ہے اور وہ سامنے آ کر ہمیں بتائے کہ طیارہ کیونکر غائب ہوا۔‘