’اندر کی خبر‘ دینے والے کو انعام

طیارے نے پرواز آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے شمال مغرب میں ختم کر دی تھی: سرکاری حکام

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطیارے نے پرواز آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے شمال مغرب میں ختم کر دی تھی: سرکاری حکام

ملائشیا کے گمشدہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین نے رقم اکٹھی کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ پرواز ایم ایچ 370 کا آخر ہُوا کیا۔

بدقسمت طیارے کے مسافروں کے گھر والوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ’اس شخص کی حوصلہ افزائی کے لیے کم از کم پچاس لاکھ ڈالر اکٹھے کرنا چاہتے ہیں جسے اندر کی خبر ہے اور وہ سامنے آ کر ہمیں بتائے کہ طیارہ کیونکر غائب ہوا۔‘

یاد رہے کہ پرواز نمبر ایم ایچ 370 آٹھ مارچ کو کوالالمپور اور بیجنگ کے درمیان گم ہوگئی تھی۔

ملائشیا کے سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی طیارے کی تلاش کے عمل کے دوران جمع ہونے والی معلومات اور اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ جدید ترین آلات کی مدد سے سطح سمندر پر تلاش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن انھیں ابھی تک طیارے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

مصنوعی سیاروں کی مدد سے جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری حکام اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ طیارے نے اپنی پرواز بحیرہ ہند میں آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے شمال مغرب میں ختم کر دی تھی۔ گمشدہ طیارے پر 239 مسافر سوار تھے۔

مسافروں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ابھی تک طیارے کی گمشدگی کی کوئی قابل یقین وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ ’ریوارڈ ایم ایچ 370‘ نامی چندہ مہم کے سربراہ ایتھن ہنٹ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہیں نہ کہیں کوئی ایسا مرد یا خاتون موجود ہے جسے اس طیارے کے بارے میں کچھ نہ کچھ پتہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اس انعام کا سن کر سامنے آئے گا۔‘

ابھی تک طیارے کی کوئی قابل یقین وضاحت سامنے نہیں آئی ہے: لواحقین

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنابھی تک طیارے کی کوئی قابل یقین وضاحت سامنے نہیں آئی ہے: لواحقین

اسی طرح سارہ باج نامی ایک خاتون، جن کے شریک حیات فلپ وُڈ بھی طیارے میں تھے، کا کہنا ہے کہ لواحقین کی خواہش ہے کہ اس حادثے کو از سرِ نو دیکھا جائے۔

’حکومتیں اور دیگر ادارے اپنی بہترین کوششیں کر چکے ہیں لیکن وہ رتی برابر ثبوت بھی پیش کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، چاہے اس کی وجہ غلط حکمت عملی تھی یا یہ کہ کسی ایک یا دو افراد نے جان بوجھ کر ان اداروں کو غلط راستے پر ڈال دیا تھا۔‘

ایک تیسرے گمشدہ مسافر پال ویکس کی اہلیہ ڈانیکا ویکس کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اتنی مرتبہ دروازے سے لوٹایا جا چکا ہے کہ اب ہمیں یہی لگتا ہے کہ ہم سارا معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے لیں، اس معمے کو نئے انداز سے دیکھیں اور طیارے کو خود سے تلاش کرنے کی کوشش کریں۔‘