لاپتہ ملائیشین طیارے کی تلاش کا دائرہ وسیع

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریلوی حکام کے مطابق ملائیشیا کے لاپتہ ہوائی جہاز کی پانی کے اندر تلاش کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق ایک زیرِ آب گاڑی لاپتہ طیارے کے ملبے کو ڈھونڈ رہی ہے، اور سگنلوں کی تلاش کا 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
اس دوران ملائیشیا نے کہا ہے کہ جہاز کے متعلق رپورٹ اگلے ہفتے جاری کی جائے گی۔
آٹھ مارچ کو ملیشیا کی فضائی کمپنی کی پرواز MH370 ، جس پر 239 لوگ سوار تھے ، کوالا لمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔ حکام نے سیٹیلائٹ ڈیٹا کی بنا پر کہا تھا کہ اس پرواز کا اختتام آسٹریلیا کے شمال مغرب میں واقع بحری علاقے میں ہوا تھا۔
تاہم اب تک لاپتہ ہوائی جہاز کے لیے جاری بین الاقوامی تلاش لاحاصل رہی ہے۔ یہ ہوا بازی کی تاریخ کا سب سے مہنگا آپریشن ثابت ہو رہا ہے۔
امریکی بحریہ کی طرف سے چلائی جانے والی آبدوز بلیو فن 21 پانی کے اندر چلنے والی گاڑی ہے جو سمندر کے فرش کا نقشہ بنا کر مختلف اشیا کی شناخت کر سکتی ہے۔ یہ گاڑی چار ہزار میٹر (13 ہزار فٹ) گہرائی میں کام کر رہی ہے۔
جمعے کو آسٹریلیا میں قائم مشترکہ ایجنسی کے رابطہ کار نے ایک بیان میں کہا کہ زیر آب چلنے والی یہ گاڑی ’95 فیصد تلاش مکمل کر چکی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کوئی ٹھوس سگنل نہ ملا تو بلیو فن تلاش کا دائرہ دس کلو میٹر کے علاقے تک پھیلا دے گی۔ ہم فی الحال اپنے بین الاقوامی شراکت داروں سے قریبی تعاون کر رہے ہیں اور مشورہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں تلاش کیسے جاری رکھی جانی چاہیے۔‘
ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے جمعرات کو سی این این کو بتایا تھا کہ ’امکان‘ ہے کہ لاپتہ طیارے کی تحقیقات کی رپورٹ اگلے ہفتے جاری ہو گی۔ بدھ کے روز ملائیشیائی حکام نے کہا تھا کہ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے پاس پہلے ہی سے موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر بیجنگ میں تازہ ترین معلومات نہ ملنے پر چین میں لاپتہ پرواز کے مسافروں کے رشتہ داروں نے ملائیشیا کے سفارت خانے کے باہر ایک اور مظاہرہ کیا۔
متاثرین کے خاندانوں کے ایک نمائندے نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ سفارت خانے اور ملائیشیا کی ایئر لائنز کے نمائندے خاندانوں کے لیے دی جانے والی بریفنگز میں شرکت کریں گے، تاہم سفارت خانے کی طرف سے گذشتہ تین دن سے کوئی بھی دکھائی نہیں دیا۔‘







