اسرائیل کی غربِ اردن میں بستیاں بنانے کے منصوبے پر نظرِ ثانی

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اپنے ہاؤسنگ کے وزیر سے کہا ہے کہ وہ غربِ اردن میں 20 ہزار سے زیادہ نئے مکانات پر مشتمل یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے پر نظرِ ثانی کریں۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ منگل کو حکومت کے ہاؤسنگ وزیر اوری ایریئل نے جس منصوبے کا اعلان کیا ہے اس سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اسرائیل کی غیر ضروری کشیدگی پیدا ہوگی۔
اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ اسے اسرائیل کے منصوبے پر ’گہری تشویش‘ ہے۔
دوسری جانب فلسطین نے کہا ہے کہ وہ اس بابت اقوام متحدہ میں اپیل کریں گے۔ انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے اس قدم سے امن مذاکرات کا خون ہو جائے گا۔
ایک بیان میں وزیرِاعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے اوری ایریئل سے کہا ہے کہ وہ غربِ اردن میں بسنے والے یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے اپنے منصوبے پر نظر ثانی کریں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے اقدام سے یہودیوں کی آبادکاری کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ ایک ایسے وقت میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ اس منصوبے کی وجہ سے غیر ضروری اختلاف بڑھے گا، جب ہم ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے کوشاں ہیں۔‘
واضح رہے کہ حال ہی میں ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے سلسلے میں جینوا ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی کے درمیان مذاکرات ہوئے جو بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گئے ہیں۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہاؤسنگ کے وزیر اوری ایریئل نے وزیر اعظم کی درخواست قبول کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلسطینی صدر محمود عباس نے اس سے قبل آگاہ کیا تھا کہ اگر اسرائیل یہودی بستیاں بنانے کے اپنے منصوبے پر عمل کرتا ہے تو اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات ختم ہو جائیں گے۔
فلسطینیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے پر بحث کے لیے اقوام متحدہ سے اپیل کریں گے۔
واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا تھا کہ امریکہ کو اسرائيلی منصوبے پر ’گہری تشویش‘ ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس بابت اسرائیل سے مزید وضاحت طلب کرے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیل کی آبادکاری کی سرگرمیوں کو ’ناجائز‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔







