ایران سے مذاکرات:’یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے‘

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے امریکی اور یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ان مذاکرات میں شرکت کی
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے امریکی اور یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ان مذاکرات میں شرکت کی

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کے تیسرے دن کہا کہ مذاکرات کاروں کو یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔

ولیم ہیگ نے جنیوا میں اب تک حاصل کی جانے والی ’بہتری‘ کو سراہا مگر کہا کہ ابھی تک کسی سمجھوتے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ مذاکرات میں آنے والی بہتری کی رفتار تیز ہوئی ہے اور چند ماہ پہلے کی نسبت ماحول بہت بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اب توجہ کا ایک حقیقی ارتکاز ہے اور ہمیں ہر وہ چیز کرنی چاہیے جس سے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ایک معاہدے پر پہنچا جا سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ان مذاکرات سے کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا یا نہیں۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ سنیچر تک کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے اور اگلے مرحلے میں غیر حل شدہ امور پر بات چیت کی جائے گی۔

مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کر دے گا جس کے بدلے میں پابندیوں پر سے کچھ عرصے کے لیے اسے سہولت مل سکے گی۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے امریکی اور یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ان مذاکرات میں شرکت کی۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے چینی ہم منصب وزیر خارجہ وینگ یی کی بھی سنیچر کو ان مذاکرات میں شرکت کی توقع ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت میں ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے عزم کو دہرایا۔

اس سے قبل بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے واضح ہے کہ ایران اپنے پسند کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس پر سے پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

بی بی سی کے جنیوا میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ایران کا کہنا ہے کہ اس کو یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔

ایران کا کہنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی توانائی کے حصول کے لیے کی جائے گی۔ تاہم عالمی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ بیرنس کیتھرین ایشٹن کے ترجمان مائیکل مان نے کہا کہ مذاکرات میں شریک مندوبین نے سنیچر کی صبح بھی بات چیت کی۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فیبیوس نے بھی کہا کہ ابھی تک معاہدے کے بارے میں کچھ کہنا ’غیر حتمی‘ ہو گا کیونکہ ’بعض ایسے نکات ہیں جن کے بارے میں ہم غیر مطمئن ہیں‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے جنیوا سے بتایا کہ کئی سالوں میں پہلی بار ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔