امریکہ کے اندر ڈرون کے استعمال پر تشویش

ڈرون کے استعمال پر اضطراب بے چینی میں تبدیل ہو رہا ہے
،تصویر کا کیپشنڈرون کے استعمال پر اضطراب بے چینی میں تبدیل ہو رہا ہے

امریکہ میں ان خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارہ سنہ دو ہزار چھ سے ملک کے اندر بھی نگرانی کی غرض سے ڈرون کا استعمال کر رہا ہے محکمۂ انصاف پر ان بارے میں ضوابط بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

محمکہ انصاف کے نگران ایک ادارے کے مطابق ایف بی آئی نے ڈرون کے استعمال پر تیس لاکھ ڈالر خرچ کیے ہیں۔

اس آڈٹ کے ذریعے سے یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ملک کے اندر قانون نافذ کرنے میں ڈرون کا کس پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ انکشاف کے ملک کے اندر بھی ڈرون کا استعمال کیا جا رہا ہے لوگوں میں نجی معاملات کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش اور اس ضمن پر اوباما پر تنقید کے پس منظر میں ہوا ہے۔

محمکۂ انصاف کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمۂ انصاف کے چار یونٹس جس میں ایف بی آئی شامل ہے سنہ دو ہزار چار سے اس سال مئی تک سینتیس لاکھ ڈالر کے ڈرون حاصل کیے اور انھیں استعمال کرنے پر صرف کیے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اندروں ملک استعمال کیے جانے والے کسی ڈرون پر کسی قسم کا کوئی میزائل نصب نہیں تھا۔

ایف بی آئی کے علاوہ بیورو آف الکوہل، ٹوبیکو اور اسلح اور بارود سے متعلق ادارے ڈرون کے استعمال کے بارے میں ضوابط بنا چکے ہیں یا بنا رہے ہیں۔

انسپکٹر جنرل نے کہا کہ ایف بی آئی نے ان ہی قوانین کے تحت جن کے تحت عام جہازوں کا استعمال کیا جاتا ہے ڈرون استعمال کر کے لوگوں کے نجی معاملات کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا خطرہ مول لیا ہے۔

ڈرون جو ایک لمبے عرصے تک بعض اوقات مسلسل کئی دنوں تک فضا میں پرواز کر سکتے ہیں شواہد اکٹھا کرنے اور نجی معامالات کے حوالے سے تفتیش کا باعث بن رہے ہیں۔

امریکہ میں شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سول لبرٹیز نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا اور اس سلسلے میں اقدامات کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔

اس گروپ کے ایک اعلیٰ اہلکار جے سٹینلے نے کہا ہے کہ کسی ایجنسی بشمول ایف بی آئی کو لوگوں کی نجی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت قوانین وضح کیے بغیر ڈرون کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے محکمۂ انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے قوانین بنانے کے اپنے وعدے پورے کرے جو امریکی شہریوں کو اجتماعی نگرانی سے تحفظ فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔

اس سال جون میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر نے سینیٹ کی کمیٹی میں ایک بیان دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ایف بی آئی اندروں ملک ڈرون کا استعمال کرتی رہی ہے۔