بغیر پائلٹ والے ایف سولہ کا کامیاب تجربہ

امریکی کمپنی بوئنگ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایک پرانے ایف سولہ طیارے کو ڈرون میں تبدیل کردیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے ایک ایف سولہ طیارے کے ڈرون نے پچھلے ہفتے کامیاب پرواز کی ہے۔
بوئنگ کے مطابق اس ڈرون کو امریکی فضائیہ کے دو پائلٹوں نے کنٹرول کیا اور اس نے فلوریڈا ایئر فورس بیس سےخلیج میکسیکو تک پرواز کی۔
جس ایف سولہ طیارے کو ڈرون میں تبدیل کیاگیا ہے وہ ایریزونا میں پچھلے پندرہ سال سے نمائش کے لیے رکھا ہوا تھا۔ اس ڈرون نے چالیس ہزار فٹ کی بلندی اور 1119 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کی۔
<link type="page"><caption> اوباما کی خفیہ ڈرون جنگ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130209_obama_drone_war_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
اس ڈرون نے وہ تمام کرتب کیے جو کوئی بھی پائلٹ جنگی جہاز پر کرتا ہے اور جن کی ضرورت میدانِ جنگ میں پڑ سکتی ہے۔
بوئنگ کے مطابق اس ڈرون ایف سولہ طیارے کا تعاقب دو جہازوں نے کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس پر نظر رکھی جاسکے۔ اس کے علاوہ اس ڈرون میں ایسا نظام بھی نصب کیا گیا تھا کہ اگر یہ بے قابو ہو جائے تو خود ہی تباہ ہو جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپنی کے مطابق اس ڈرون نے نائن جی یعنی نو گنا کشش ثقل میں کرتب دکھائے جو کہ اگر پائلٹ کرے تو اس کو دشواری پیش آتی ہے۔
بوئنگ کا کہنا ہے کہ اس نے چھ ایف سولہ طیاروں کو ڈرون کے لیے تبدیل کیا ہے اور ان کا نام کیو ایف سولہ رکھا گیا ہے۔
امریکی فوج اب ان ڈرونز پر لائیو فائرنگ کے تجربے کرے گی۔
تاہم ’سٹاپ کلر روبوٹ‘ مہم کے ترجمان پروفیسر نوئل شارکی کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز کو جنگ میں استعمال کرنےنہیں کیا جانا چاہیے: ’مجھے بڑی تشویش ہے کہ ان ڈرونز کو لوگوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا مجھے خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ جس رفتار سے یہ جہاز پرواز کرتے ہیں اس رفتار پر وہ شاید اپنے ہدف کو بھی نہ پہچان سکیں اور جلد ہی ان کا استعمال لوگوں کو ہلاک کرنے کے خودکار ہتھیار کے طور پر شروع ہو جائے۔







