امریکی سرزمین پر بھی ڈرون کا استعمال ہوتا ہے‘

امریکی ادارے ایف بی آئی نےتسلیم کیا ہے کہ پائلٹ کے بغیر اڑنے والے طیاروں کو ملک میں نگرانی کے لیے کبھی کبھار استعمال کیا جاتا ہے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی کی نگرانی کے لیے ڈرون کا استعمال کرتے ہیں لیکن ایسا بہت ہی کم مواقعوں پر ہوتا ہے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے تجویز کیا کہ ملک میں ڈرون کے استعمال کے لیے قواعد و ضوابط بنائے جانے چاہییں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز مولر نے تسلیم کیا کہ پائلٹ کے بغیر اڑنے والے جہاز کا استعمال ملک کے اندر بھی ہوتا ہے اور لوگوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے قواعد و ضوابط کی اشد ضرورت ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں اگلے پانچ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی بڑھ جائےگا اور 2018 تک دنیا میں تیس ہزار ڈرون طیاروں کا استعمال ہو رہا ہوگا۔
ان تیس ہزار ڈرون طیاروں کا نصف صرف امریکہ میں استعمال کیا جائے گا۔
جیمز مولر نے کہا کہ کسی تحقیقات میں مدد دینے کے لیے کبھی کبھار ڈرون کا استعمال کیا جاتا ہے۔



