ترکی نے شام کا فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا

شام نے ترکی کی جانب سے دونوں ممالک کی سرحد پر شامی فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کو مارگرانے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
شامی فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ہیلی کاپٹر شدت پسندوں کی تلاش میں سرچ آپریشن کر رہا تھا کہ اس دوران وہ غلطی سے ترکی کی حدود میں داخل ہوا۔ شامی فوج کا کہنا ہے ترکی نے اپنے سرحدی علاقے میں جانے والے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کا اقدام جلد بازی میں کیا ہے جس کا مقصد سرحدی صورتحال کو کشیدہ کرنا تھا۔
دوسری جانب ترکی کے نائب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ شامی فوج کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کو متعدد بار خبردار کیا گیا اور جب وہ ترکی کی سرحد کے اندر دو کلومیٹر تک کے علاقے میں پہنچا تو اسے نشانہ بنایا گیا۔
ادھر شام میں موجود کارکنوں نے کہا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر باغیوں کے مضبوط گڑھ کے قریب ہی ملک کے ساحلی صوبے لٹاکیا میں آتشیں مواد پہنچا رہا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ نے شام کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں ’واضح طور پر‘ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں گزشتہ ماہ راکٹ حملے میں سارن گیس کا استعمال کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اس رپورٹ میں کسی پر الزام عائد نہیں گیا ہے کہ آیا کس نے اس کا استعمال کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ’یہ جنگی جرم ہے۔‘
اس سے قبل اقوام متحدہ کے معائینہ کاروں نے کہا تھا کہ وہ شام میں ستمبر 2011 سے اب تک کیمیائی اسلحے کے استعمال کے مبینہ 14 الزامات کی جانچ کر رہے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس تصدیق کے بعد اب عالمی قوتیں شام کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد لانے کی کوشش کریں گے۔
اس سے قبل فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا تھا کہ فرانس، برطانیہ اور امریکہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں پر اقوام متحدہ کی ’سخت ‘ قرارداد کے خواہاں ہیں۔
روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت شام نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ وہ ایک ہفتے میں اپنے کیمیائی اسلحے کے ذخیرے کو ظاہر کر دے گا اور سنہ 2014 کے وسط تک اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کر دے گا۔
معاہدے کے مطابق اگر شام اس عہد کی پاسداری میں ناکام رہا تو اس پر اقوام متحدہ کی قرارداد نافذ ہو جائے گی جس میں حتمی طور پر طاقت کے استعمال کی بات درج ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے دمشق میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف شام پر حملے کی دھمکی دی تھی۔
دوسری جانب شام کےصدر بشار الاسد نے دمشق میں 21 اگست کو ہونے والے کیمیائی حملے کی تردید کرتے ہوئے اس کا الزام باغیوں پر عائد کیا تھا۔
واضح رہے کہ شام نے حال میں عالمی کیمیائی اسلحے معاہدے میں شامل ہونے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے اور اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ شام 14 اکتوبر سے اس معاہدے کے تحت آ جائے گا۔
جینوا میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان تین روزہ بات چیت کے بعد اس معاہدے کا اعلان سنیچر کو ہوا تھا۔
شام کے سینیئر وزیر علی حیدر نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ’یہ شام کی جیت ہے جسے ان کے دوست روس نے حاصل کیا ہے‘۔







