شام کے کیمیائی ہتھیاروں پر سمجھوتہ طے پا گیا

روس اور امریکہ کے وزراء خارجہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر تین دن بات چیت کی۔
،تصویر کا کیپشنروس اور امریکہ کے وزراء خارجہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر تین دن بات چیت کی۔

امریکہ اور روس شام کے کیمیائی ہتھیاوں کے معاملے پر ایک چھ نکاتی منصوبے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت سنہ 2014 کے وسط تک یہ ہتھیار شام سے منتقل یا پھر تلف کر دیے جائیں گے۔

یہ اعلان روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری کے درمیان تین روز تک جنیوا میں جاری بات چیت کے بعد سنیچر کو کیا گیا۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں 1419 افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔

<link type="page"><caption> شام پر بات چیت تعمیری رہی: جان کیری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130913_russia_usa_syria_talks_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

بات چیت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ سمجھوتے کے مطابق شام کو لازمی طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے سے متعلق دیے گئے وقت کی پابندی کرنا ہو گی۔

اس موقع پر جان کیری نے کہا کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے پاس موجود کیمیائی ہتھیاروں کی تعداد اور نوعیت کے بارے میں متفقہ طور پر اندازے لگا لیے گئے ہیں اور اب امریکہ اور روس انہیں جلد از جلد اور محفوظ طریقے سے ضائع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام ایک ہفتے میں اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر کی فہرست فراہم کرے اور نومبر تک عالمی معائنہ کاروں کو رسائی دے۔ انہوں نے بتایا کہ شام کے تمام کیمیائی ہتھیار 2014 کے وسط تک تلف کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کے مطابق ہم ایک ایک ایسے معیار پر متفق ہوئے ہیں جس میں کہا گیا ہے’تصدیق کریں، تصدیق کریں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بشار الاسد کی حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔’اب کسی قسم کا کھیل کھیلنے کی گنجائش نہیں اور اسد حکومت کو مکمل طور پر پابندی کرنا ہوگی۔‘

روسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ طے شدہ سمجھوتے میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اگر شام اس ٹائم فریم کی پابندی نہیں کرتا تو اس کے خلاف ممکنہ طور پر طاقت کا استعمال ہوگا لیکن کسی قسم کی خلاف ورزی کا جائزہ سلامتی کونسل میں لیا جائے گا۔

حکام کے مطابق روس کے شدید اعتراضات کے بعد اب امریکہ شام سے متعلق قرارداد میں فوجی طاقت کے استعمال کے اصرار سے بھی پیچھے ہٹ گیا ہے۔

اس کے علاوہ بات چیت میں شام میں ڈھائی سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے امن بات چیت شروع کرنے پر بھی بات کی گئی ہے۔

شام کے خلاف فوجی کارروائی کے معاملے پر امریکہ کے حامی فرانس نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ لورین فیبیئس نے کہا ہے کہ ایک ’اہم قدم‘ ہے۔

تاہم شام میں حکومت مخالف باغیوں کے تنظیم فری سیریئن آرمی نے اس سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ لڑائی جاری رکھیں گے۔

تنظیم کے جنرل سلیم ادریس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں ایسا کچھ نہیں جس کا ہم سے واسطہ ہو اور یہ روس کی ایما پر شامی حکومت کی جانب سے وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی آئندہ ہفتے متوقع ایک رپورٹ میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ’مکمل تصدیق‘ ہو جائے گی۔

بان کی مون نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ دمشق کے مضافاتی علاقے میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کرنے کا الزام کس پر عائد کیا جائے گا کیونکہ یہ رپورٹ کے دائرۂ کار میں نہیں ہے۔

لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا کہ شام کے صدر بشارالاسد ’جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں‘۔ انھوں نے کہا ’اس لیے مجھے یقین ہے کہ جب یہ سارا معاملہ ختم ہو گا تو احتساب کا عمل شروع ہو جائے گا۔‘

شام میں 2011 میں شروع ہونے والے کشیدگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔