روس امریکہ معاہدے سے شام کے لیے امید؟

- مصنف, پال ایڈمز
- عہدہ, بی بی سی نیوز، جنیوا
جھیل کے کنارے واقع شہر جنیوا میں گزشتہ چند دن بہت اہم تھے۔
ایک جلد بازی میں بلایاگیا اجلاس جس کے بارے میں شروع سے ہی کہا گیا تھا کہ یہ ناکامی سے دوچار ہو گا مگر اس کے نتجے میں ایک معاہدہ طے پا گیا، بے شک اس کے لیے طویل ملاقاتیں جاری رہیں اور اس سب کا مقصد تھا شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنا۔
اب ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ خیال ایک عالمی دیگ میں گزشتہ ایک سال یا اس سے زیادہ سے دھیمی آنچ پر پک رہا تھا۔
جان کیری جنہوں نے گزشتہ پیر ہی کو اس خیال کو یہ کہہ کر بڑی شگفتگی سے رد کر دیا تھا کہ یہ کبھی کام نہیں کرے گا مگر اب وہی کیری ایک چیمپئن ہیں۔
جمعرات کی شام سے ہم نے کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کو اپنے ماہرین کی ٹیموں کے ساتھ تفصیلات طے کرتے دیکھا۔

جنیوا کے انٹر کانٹیننٹل ہوٹل کے سامنے واقع ایک پٹرول سٹیشن پر ہماری پوزیشن سے سب کچھ واضح نظر آ رہا تھا خصوصاً جب سرگئی لاوروف اپنی جیکٹ اتارے ایک پول کے کنارے فون کان سے لگائے کسی سے گفتگو کر رہے تھے۔
اسی طرح جب اہم سفارت کار اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی سے ملنے سائرن بجاتی کاروں میں آئے یا جب سفارت کار اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے ازراہِ نوازش ایک ملاقات کے لیے آئے ہم نے سب دیکھا۔
ہوٹل کی لابی میں صحافی معلومات کے حصول کے لیے تانک جھانک میں مصروف نظر آئے بلکہ ایک ساتھی تو کانفرنس کے کمرے میں جا پہنچی اور اپنے بلیک بیری فون سے تصویریں بھی لے لیں جس کے بعد انہیں نکال باہر کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلآخر ڈھائی سال تک ایک دوسرے کے ساتھ شام کے معاملے پر اختلاف رائے کی بنیاد پر جھگڑنے کے بعد اور صرف تین دن بعد جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی خارجہ پالیسی کو تضحیک کا نشانہ بنایا اب روس اور امریکہ نے مل کر ایک پیچیدہ معاملے پر تعاون کیا ہے۔
طاقت کے استعمال کی دھمکی؟

یہ سب بہت تیزی سے ہو گا۔
شام کے پاس جو کچھ بھی ہے اس کی فہرستیں جمع کر کے حوالے کرنے کے لیے صرف ایک ہفتہ ہے اور اگلے سال کے نصف تک شام کا تمام کیمیائی ہتھیاروں کا زخیرہ تباہ کیا جا چکا ہو گا۔
اور اگر شام تعاون نہیں کرتا تو پھر یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس چلا جائے گا جو اقوامِ متحہدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت اقدامات شام پر مسلط کرے گی۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ طاقت کے استعمال کی اجازت ہو گی۔
جان کیری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اقدامات تشدد کی سطح سے مطابقت رکھتے ہوں گے مگر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی صدر براک اوباما نے یک طرفہ طاقت کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔

دونوں سفارت کاروں نے بڑے پرجوش انداز میں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا۔ لاوروف نے کہا کہ جان کیری نے ’غیر متعلقہ بیان بازی‘ کو ’پسِ پشت‘ ڈال کر یہ سب ممکن بنایا۔
اپنے امریکی ہم منصب کی طرح انہوں نے بھی اس امکان کا اظہار کیا کہ اس قدم سے ایک بڑے عالمی ردِ عمل، ایک عالمی امن کانفرنس کی تشکیل جنم لے سکتی ہے جو شام میں جاری تکلیف دہ تنازعے کے خاتمے کو ممکن بنا سکے۔
تو پھر چھتیس گھنٹوں کی اعلیٰ سطحی سفارت کاری کے بعد معاہدہ طے پا گیا اور جان کیری جھیل کے کنارے دوڑ لگانے کے لیے چلے گئے۔
ولادیمیر پوتن کی مدد سے براک اوباما کنارے سے مڑ کر واپس آئے اور متعدد واقعات کے سلسلے میں ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا جو شاید شام کے لیے امید کی ایک ٹمٹماتی کرن ہے۔







