شام پر بات چیت تعمیری رہی: جان کیری

ایسے نکتے تلاش کر رہے ہیں جن پر اتفاقِ رائے ممکن ہو: جان کیری
،تصویر کا کیپشنایسے نکتے تلاش کر رہے ہیں جن پر اتفاقِ رائے ممکن ہو: جان کیری

امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے پر ان کی بات چیت شام میں جاری پرتشدد تنازعے کے حل کی کوششوں کا آغاز ہے۔

جنیوا میں جمعے کو دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے دوسرے دن مذاکرات میں شام کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ خصوصی ایلچی الاخضر براہیمی نے بھی شرکت کی۔

بات چیت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ بات چیت تعمیری رہی ہے اور وہ ایسے مشترکہ نکات تلاش کر رہے ہیں جن پر اتفاقِ رائے ممکن ہو۔

اس موقع پر روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر رواں ماہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر بھی بات چیت ہوگی جس میں شام کے معاملے پر امن کانفرنس کی تیاریوں پر بات ہوگی۔

روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کے درمیان جمعرات کو شام میں جاری کشیدگی پر جامع مذاکرات ہوئے تھے اور دونوں رہنما کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی امور پر اب بھی وسیع اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ادھر شامی باغیوں نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیار عالمی کنٹرول میں دینے کے اعلان کے باوجود ہلاکتیں نہیں رکیں گی۔

فری سیریئن آرمی کے ترجمان لوئی مقداد نے بی بی سی کو بتایا کہ شام کی سرکاری فوج کے پاس روایتی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ہے اور شامی حکومت کا یہ اقدام روس کی مدد سے ’مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے‘۔

جنیوا میں روسی ہم منصب سے ملاقات سے قبل جان کیری نے کہا تھا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ صدر بشارالاسد کیمیائی ہتھیاروں کو ترک کرنے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے یا نہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں طاقت کا استعمال لازمی ہوگا۔

جمعرات کو جنیوا میں ہونے والی ملاقات سے پہلے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزرائے خارجہ نے امید ظاہر کی تھی کہ روسی منصوبے پر عمل درآمد سے شام مغربی ممالک کی فوجی کارروائی سے بچ سکے گا۔

سرگے لاوروف نے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ حل ہونے کے بعد شام کے خلاف امریکہ کی طرف سے فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکی کی وجہ سے شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے حوالے کرنے پر تیار ہوا ہے اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتکاری سے شام کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکے گا۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز روبنز کا کہنا تھا کہ لاوروف اور جان کیری کے درمیان بات چیت بہت اہمیت کی حامل ہے جس کا مقصد گذشتہ ڈھائی سال سے جاری شامی کشیدگی کے حل میں تعطل کو ختم کرنا اور صدر بشارالاسد سے کیمیائی ہتھیار لے لینا ہے۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں 1419 افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔

برطانیہ ، فرانس اور امریکہ اقوام متحدہ میں ایک ایسی قرارداد بھی لانا چاہتے ہیں جس کی پابندی کرنا شام پر لازمی ہو جبکہ روس اس کا مخالف ہے۔ فرانس اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت قرارداد تیار کرنے پر پہلے ہی سے کام کر رہا ہے جو شام کی ناکامی کی صورت میں اس کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دیتی ہے۔

ادھر روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں کوئی بھی ایسی قرارداد قابلِ قبول نہیں ہوگی جس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری شام پر ڈالی جائے۔

شام میں 2011 میں شروع ہونے والے کشیدگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔