’شام کے خلاف یکطرفہ کارروائی جارحیت ہو گی‘

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سے منظوری کے بغیر شام کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی ’جارحیت‘ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اگر امریکہ نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے بغیر فوجی کارروائی کی تو روس اس صورت میں کیا کرے گا۔
صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت سے انکار نہیں کیا لیکن اس کا انحصار شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ٹھوس شواہد پر ہوگا۔
اس سے پہلے امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ممبران نے شام میں امریکی فوج کی جانب سے محددو کارروائی کرنے کی ایک مجوزہ قرارداد پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد اس مجوزہ قرارداد کو جاری کیا گيا۔
اس مجوزہ قرارداد پر آئندہ ہفتے ووٹنگ ہو گی اور اس میں شام کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو زیادہ سے زیادہ ساٹھ دنوں میں مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے جس میں کانگریس کی اجازت سے مزید تیس دنوں کی توسیع بھی ممکن ہو گی۔
مجوزہ قرارداد میں شام کے خلاف زمینی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ’ اس بات کی اجازت نہیں کہ امریکہ کی مسلح افواج کو شام میں زمینی کارروائی کے لیے استعمال کیا جائے۔‘
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ بشارالاسد حکومت کی جانب سے کیمیائي ہتھیار کے استعمال کے نتیجے میں امریکہ کو حرکت میں آنا پڑا۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے اہم رہنماؤں جان بوہنر اور ایرک کینٹور نے بھی شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کو حاصل قرارداد کے مسودے کےمطابق ’سینیٹرز کی یہ خواہش ہے کہ یہ آپریشن محدود ہو اور شام کے خلاف امریکی فضائیہ کا ضروری استعمال ہو۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر بشار الاسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار تیار کیے اور دمشق کے نزدیک 21 اگست کو ان کا استعمال بھی کیا۔
جان کیری نے کہا کہ صدر اوباما نے امریکی جنگ کی اجازت نہیں مانگی ہے ’انہوں نے صرف اس بات کی اجازت مانگی ہے کہ وہ یہ واضح کر دیں اور اس بات کی یقین دہانی کرا دیں کہ امریکہ وہی ہے جسے ہم امریکہ کہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم اس سے علیحدہ رہے تو دوسرے ممالک کو بھی عام تباہی کے ہتھیار بنانے کی اجازت مل جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ وقت نہیں کہ آرام سے کرسی پر علیحدہ ہو کر بیٹھا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ وقت نہیں کہ قتل عام کا خاموش تماشائی بنا جائے۔‘
صدر اوباما شاید مطمئن نہ ہوں

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر مارک مارڈیل کے مطابق امریکی سینیٹ کے خارجہ امور کی کمیٹی بظاہر شام پر کانگریس کو پیش کردہ پہلے قرارداد کی منظوری حاصل کر لے گی کیونکہ اس کے دو بڑے ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن اراکین نے اس کے متن پر اپنی رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔
اس میں فوجی کارروائی کو 60 دنوں تک محدود کیا گیا ہے اور کسی زمینی جنگ کو خارج کر دیا گيا۔ صدر براک اوباما شاید اس مسودے سے زیادہ مطمئن نہیں ہوں گے کیونکہ اس میں نپی تلی اور محدود جیسے الفاظ کا استعمال کیا گيا ہے۔
میں نے جس سے بھی بات کی ان کے خیال میں یہ کارروائی دو ماہ تک جاری نہیں رہے گی اور یہ کہ صدر اوباما اور ان کے جنرل اپنے فوجیوں کو زمین پر اتارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن مسودے میں اس طرح کی زبان کے استعمال ضرورت کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بتایا کہ اگر شام پھٹ پڑتا ہے تو سپیشل فورسز کو وہاں جا کر کیمیائی ہتھیار کو حاصل کرنا ہوگا۔
مسودے کی زبان اس سے منع نہیں کرتی اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محتاط مشن ممکن ہے۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کیمیائی ہتھیارکا حصول امریکہ کی اہم ترجیحات میں شامل کیوں نہیں ہے۔بہرحال ابھی بھی واشنگٹن میں کافی ہچکچاہٹ ہے۔ امریکہ میں رائے عامہ کو دیکھتے ہوئے بہت سے شکوک شبہات ہیں۔ ایک تازہ رائے شماری سے ظاہر ہے کہ اکثریت اس کارروائی کے خلاف ہے۔







