تصاویر: بیس لاکھ شامی پناہ گزین

اقوام متحدہ کا کہنا ہے شامی پناہ گزینوں کی تعداد بیس لاکھ سے بڑھ گئی ہے جو کہ صرف چھ ماہ میں دس لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔

اضرق پناہ گزین کیمپ کو جاتا ہوا راستہ
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کا کہنا ہے شامی پناہ گزینوں کی تعداد بیس لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ اس تعداد میں صرف چھ ماہ میں دس لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔
لبنان میں قائم پباہ گزین کیمپ میں چند شامی خواتین اپنے خیموں کے باہر کھڑی ہیں
،تصویر کا کیپشنکم ازکم سات لاکھ افراد نے شام چھوڑ کر لبنان میں پناہ لی ہے اور اس وقت دنیا میں کسی دوسری قوم کے مقابلے میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
شامی پناہ گزین ترکی میں داخل ہو رہے ہیں
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ’شام کی بہت ساری خواتین، بچے اور مرد صرف اپنے چند کپڑوں کے ساتھ وطن ترک کرنے پر مجبور ہیں‘۔
ایک شامی کرد پناہ گزین خاتون خیمے کے باہر دھلے ہوئے کپڑے لٹکا رہی ہیں
،تصویر کا کیپشنان پناہ گزینوں میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے اور ان بچوں میں تین چوتھائی گیارہ سال سے کم عمر ہیں۔
زعتری کیمپ کا ایک منظر
،تصویر کا کیپشناپنا ملک چھوڑنے والے ان افراد نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لی ہے اور ان میں سے ایک لاکھ تیس ہزار افراد اردن کے صحرا میں قائم زعتری پناہ گزین کیمپ میں رہ رہے ہیں۔
لبنان میں پناہ گزین کیمپ میں ایک خاتون کپڑے دھو رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسب سے زیادہ شامی پناہ گزین لبنان گئے ہیں جبکہ شام کے ہمسایہ ممالک میں لبنان سب سے چھوٹا ملک ہے اور اس صورتحال سے نمٹے کے لیے اس کے پاس وسائل بھی کم ہیں۔
شامی پناہ گزین ترکی میں داخل ہونے کے بعد اپنا سامان اٹھائے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلبنان کے بعد شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے اردن دوسرے اور ترکی تیسرے نمبر پر ہے۔
یہ تصویر ستائیس اگست دو ہزار تیرہ کو لی گئی تھی جس میں کرد پناہ گزن کیمپ میں شامی افراد کو خیموں کے باپر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے
،تصویر کا کیپشناگست کے وسط میں شام کے شمال مشرقی علاقے سے سب سے بڑی نقل مکانی ہوئی تھی جب ہزاروں پناہ گزین سرحد عبور کر کے عراق کے علاقے کردستان میں داخل ہوئے تھے۔