’طالبان نے بارہ عام شہریوں کو ہلاک کر دیا‘

افغانستان میں حکام کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے حکومتی منصبوں پر کام کرنے والے چھ اہلکاروں سمیت بارہ عام شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق افغانستان کے صوبے ہیرات میں چھ حکومتی ٹھیکے داروں کی لاشیں ملی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ان افراد کو اغوا کے بعد ان کی رہائی کے لیے کی جانے والے کوششوں میں ناکامی کے بعد ہلاک کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ افغانستان کے صوبے پکتیا میں بھی چھ شہریوں کو ہلاک کیا گیا۔
خیال رہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو افواج کی سنہ 2014 میں انخلا کی تیاری کے ساتھ حکومتی ٹھیکے داروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔
افغان حکام کے مطابق صوبے ہیرات میں ملنے والی چھ لاشوں میں سے چار انجینئیرز اور دو عام کارکن تھے اور انھیں سر میں گولیاں ماری گئیں۔
یہ چھ افراد افغانستان کی دیہی بحالی اور ترقی کی وزارت کے تحت چلنے والے ایک قومی منصوبے پر کام کر رہے تھے۔
ان ٹھیکے داروں کو اتوار کو اغوا کیا گیا اور صوبائی حکام کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ناکامی کے بعد انھیں پیر کی رات ہلاک کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان کے صوبے ہیرات کے گورنر فضل اللہ واحدی نے خبر رساں ایجنسی روئیٹرز کو بتایا کہ ہم نے چند بزرگوں کے ہمراہ طالبان سے ملنے کی کوشش کی تاکہ ہم انھیں بتا سکیں کہ یہ ٹھیکے دار ہر کسی کے فائدے کے لیے کام کرتے ہیں تاہم طالبان نے ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے انھیں ہلاک کر دیا۔
دوسری جانب طالبان نے ان حملوں کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔







