اسرائیل اور فلسطین مذاکرات کا دوبارہ آغاز

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے
،تصویر کا کیپشناسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے

اسرائیل اور فلسطین کے مذاکرات کاروں نے واشنگٹن میں تقریباً تین سال کے بعد دوبارہ مذاکرات شروع کردیے ہیں۔

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ یہ ’بہت ہی خاص موقع‘ ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کو خوش آیند قرار دیا تاہم متنبہ کیا کہ یہ راستہ بہت مشکل ہے۔

واضح رہے کہ یہ مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے۔

ان مذکرات کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ان تھک سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جنھوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک چھ مرتبہ مشرقِ وسطی کا دورہ کیا۔

خیال رہے کہ امریکی وزارتِ خارجہ کا یہ اعلان اسرائیل کی جانب سے 100 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔

ان فلسطینی قیدیوں کی رہائی مرحلہ وار اور متعدد مہنیوں میں ہو گی۔

غربِ اردن میں اسرائیل کی آبادکاری، یروشلم کا درجہ اور فلسطین مہاجرین کا مستقبل ان مذاکرات کا اہم موضوع ہوں گے۔

واضح رہے کہ یروشلم میں اسرائیل کی آباد کاری کے باعث فلسطین اور اسرائیل کے براہِ راست مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے۔

یہ آباد کاری بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی ہے تاہم اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی کابینہ نے اتوار کو 7 کے مقابلے میں 13 ووٹوں سے 104 فلسطینی قیدیوں کی چار مرحلوں میں رہائی کی منظوری دی۔