مشرق وسطیٰ امن:امریکی منصوبے کی حمایت

عرب لیگ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اسرائیل اور فلسطین میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اردن میں عرب لیگ کے ارکان سے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد امن منصوبے کی حمایت سامنے آئی ہے۔
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات دو سال پہلے نئی یہودی بستیوں کے معاملے پر التوا کا شکار ہوگئے تھے۔
وزیر خارجہ کے بقول انہوں نے کئی ماہ پہلے جب امن مذاکرات دوبارہ شروع کی کوششیں شروع کی تو اس وقت فریقین میں قابلِ ذکر رخنہ تھا۔
انہوں نے عمان میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’لیکن بہت زیادہ مشاورت اور صبر سے کام کرنے کے بعد، اور زیادہ اہم یہ ہے کہ خاموشی سے کام کرنے کے بعد ہم فریقین میں قابل ذکر حد تک اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا وہ سال دو ہزار دو میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ اقدام کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔
اس منصوبے میں اسرائیل کو پوری طرح تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے بدلے اسے سنہ 1967 میں جنگ کے دوران قبضہ میں لیا گیا تمام رقبہ واپس کرنا ہوگا اور فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سنہ انیس سو اڑتالیس کی قراردار کے مطابق حل کرنا ہوگا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ امن منصوبے میں تجویز کردہ شرائط پر رضامند نہیں ہے لیکن اس نے منصوبے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد عرب لیگ مندوبین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’وہ آج جان کیری کے کمیٹی کو دیے جانے والے تصور پر یقین کرتے ہیں، جس میں مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک اچھا موافق ماحول تشکیل دینا ہے جس میں خاص طور پر اہم سیاسی، معاشی اور سکیورٹی عناصر شامل ہوں‘۔
امریکی وزیر خارجہ نے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کے تناظر میں فلسطین کو چار ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کی ہے۔
اس سے پہلے انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محممود عباس سے ملاقات کی تھی۔
امن مذاکرات میں رکاوٹیں

اسرائیل اور فلسطین میں امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ غرب اردن میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر ہے۔
فلسطینی اتھارتی کے صدر محمود عباس کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر امن مذاکرات میں شامل ہو گا۔
اسرائیل نےگزشتہ دنوں یورپ کی جانب سے منظور کردہ رہنما اصولوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا جس میں اسرائیل کے لیے یورپی امداد کو مقبوضہ علاقوں میں منصوبے روکنے سے مشروط کیا گیا تھا۔







