فلسطینیوں سے معاہدے پر ریفرینڈم ہوگا: اسرائیلی کابینہ

کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب ملکی بقا اور بہتری کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں: وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو
،تصویر کا کیپشنکچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب ملکی بقا اور بہتری کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں: وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو

اسرائیلی کابینہ نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت فلسطینیوں کے ساتھ کسی طرح کے بھی امن معاہدے کی منظوری کے لیے ریفرنڈم کروانا لازمی ہوگا۔

وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے تاریخی فیصلوں میں ہر شہری کو اپنی رائے دینے کا حق ہونا چاہیے۔

کابینہ میں وزیرِاعظم کی فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی متنازع تجویر پر بھی بحث جاری ہے۔

قیدیوں کی رہائی امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کروانے کی امریکی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

حکومت ریفرنڈم کے بل کے لیے پارلیمان سے فوری منظوری کے لیے کہے گی۔

قیدیوں کی رہائی کا معاملہ وزیرِاعظم کےلیے قدرے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ان قیدیوں میں ایسے بھی افراد شامل ہیں جن کی جانب سے کیے گئے حملوں میں اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اتوار کو ہونے والا کابینہ کا اجلاس ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا کیونکہ وزیرِاعظم قیدیوں کی رہائی کے لیے حمایت جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اجلاس سے پہلے وزیرِاعظم کا قیدیوں کی ممکنہ رہائی کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’یہ لمحہ میرے لیے آسان نہیں، یہ کابینہ کے ممبران کے لیے آسان نہیں اور خاص طور پر ہلاک ہو جانے والوں کے لواحقین کے لیے آسان نہیں ہے اور میں ان کے جذبات سمجھتا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاہم کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب ملکی بقا اور بہتری کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں اور یہ ایسا ہی وقت ہے۔‘