امن مذاکرات کی بحالی، اسرائیل فلسطین معاہدے پر متفق

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات بحال کرانے میں عرب لیگ نے اہم کردار ادا کیا ہے
،تصویر کا کیپشنامریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات بحال کرانے میں عرب لیگ نے اہم کردار ادا کیا ہے

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بنیادی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

انھوں نے معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائیں لیکن جان کیری کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اگلے ہفتے واشنگٹن میں شروع ہو گا۔

جان کیری جو ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں جمعہ کو اردن میں فلسطین اور اسرائیل کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات دو سال پہلے نئی یہودی بستیوں کے معاملے پر التوا کا شکار ہوگئے تھے۔

جان کیری نے اردن کے دارالحکومت عمان میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں بتایا کہ فریقین براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بنیادی شرائط پر متفق ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا ’یہ بہت اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن یہ ابھی حتمی شکل دیے جانے کے مراحل میں ہے۔‘

جان کیری نے بتایا کے آئندہ ہفتے واشنگٹن میں فلسطین اتھارٹی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صاحب عریکات اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ابتدائی بات چیت کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ معاہدے کے بارے میں آنے والی تفصیلات محض ’قیاس آرائیاں‘ ہیں اور ان مذاکرات کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے تفصیلات کو منظر عام پر نہ لایا جانا ہی بہتر ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکی منصوبے کی حمایت پر عرب لیگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ اس سے مذاکرات کے لیے ماحول ساز گار ہوا ہے۔

جمعے کو جان کیری نے غرب اردن کا دورہ کیا اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی جبکہ جان کیری نے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو سے ٹیلیفون پر بات بھی کی۔

انھوں نے کہا ’فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ اگے کا مشکل راستہ، سفر کرنے کے قابل ہے۔‘

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر بات چیت میں فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات جلد از جلد شروع کرنے پر زور دیا تھا۔

حالیہ عرصے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسرئیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات دوبارہ شروع کروانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے چھ دورے کیے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ دونوں ریاستوں کے مابین دہائیوں پرانے مسئلے کے حل کے لیے وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔

اسرائیل اور فلسطین میں امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ غرب اردن میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر امن مذاکرات میں شامل ہو گا۔

اسرائیل نےگزشتہ دنوں یورپ کی جانب سے منظور کردہ رہنما اصولوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا جس میں اسرائیل کے لیے یورپی امداد کو مقبوضہ علاقوں میں منصوبے روکنے سے مشروط کیا گیا تھا۔