مصر: مرسی کے دو حامی ہلاک، منصورہ میں دھماکہ

محمد مرسی کے خاندان نے جرائم کی عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنمحمد مرسی کے خاندان نے جرائم کی عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

مصر کے شہر منصورہ میں ایک پولیس سٹیشن کے باہر دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء دارالحکومت قاہرہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معزول صدر محمد مرسی کے دو حامی ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ منصورہ میں ہونے والے دھماکے میں پولیس اہلکار اور عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ بم ایک ٹرک کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔

دوسری جانب قاہرہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معزول صدر محمد مرسی کے دو حامی ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے دونوں افراد ایک مسجد کے باہر جمع ہزاروں افراد کے احتجاجی مظاہرے میں شامل ہونے جا رہے تھے۔

مصر میں جب سے فوج نے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے الگ کیا ہے اس وقت سے ہنگامے جاری ہیں۔

معزول صدر کے حامیوں اور محالفین کے درمیان جھڑپوں میں ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے پیر کی رات کو قاہرہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اخوان المسلیمن محمد مرسی کی معزولی اور مصر کی عبوری انتظامیہ کو قبول سے مسلسل انکار کر رہی ہے اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا اور اس کے بعد سے انہیں نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

ان کی جماعت اخوان المسلمین نے اس اقدام کو فوجی بغاوت قرار دیا تھا اور اب ان کے خاندان کا بھی کہنا ہے کہ وہ سابق صدر کے ’تحفظ‘ کے لیے فوج کو ہی ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

ادھر محمد مرسی کے خاندان نے کہا ہے کہ وہ محمد مرسی کی معزولی کی تحقیقات کے لیے جرائم کی عالمی عدالت سے رجوح کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ محمد مرسی کی بیٹی شائمہ مرسی نے کہا ہے کہ فوجی سربراہ عبدالفتح السیسی کے خلاف عالمی اور مقامی سطح پر قانونی چارہ جوئی کی جائےگی۔

شائمہ مرسی نے کہا کہ ’ہم خونی فوجی بغاوت کے قائد عبدالفتح السیسی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقامی اور عالمی سطح پر قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔‘