’ تشدد کے خاتمے کے لیے امن کی جنگ لڑیں گے‘

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے عوام سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ وہ تشدد اور افراتفری پھیلانے والے عناصر سے ملک کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔
فوج کی جانب سے صدر مرسی کو برطرف کرنے کے بعد عبوری صدر عدلی منصور نے کہا کہ وہ مصر میں امن قائم کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔
دوسری جانب اخوان المسلمین کے حامیوں نے صدر محمد مرسی کی بحالی کے لیے جمعے کو ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں صدر منصور نے کہا ’ہم ایک کٹھن دور سے گزر رہے ہیں اور بعض افراد ہمیں بدنظمی کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ہم استحکام کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہم امن کی یہ جنگ آخر تک لڑیں گے اور اپنے انقلاب کو تباہی سے دور کریں گے ‘
مصر میں تین جولائی کو فوج نے صدر مرسی کی حکومت برطرف کر کے آئین معطل کر دیا تھا۔ فوج کا موقف ہے کہ انھوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں اور عوام کی خواہشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔
اخوان المسلمین کے حامی محمد مرسی کو بحال کرنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور مظاہرین دارالحکومت قاہرہ کی سڑکوں پر موجود ہیں۔
اخوان المسلمین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے انھیں یورپی یونین کی پشکش قبول ہے لیکن وہ مذاکرات کے دوران بھی مظاہرے ختم نہیں کریں گے۔
جماعت کے ترجمان نے یورپی یونین کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کے بعد کہا ’بحالی (صدر مرسی) کی قانونی حیثیت پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر مرسی کی برطرفی کے بعد اخوان المسلمین نے پہلی مرتبہ مذاکرات کی پیشکش قبول کی ہے۔
مصر میں جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد عبوری کابینہ نے حلف اٹھایا ہے لیکن اخوان المسلمین کے مصر میں عبوری کابینہ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔
اخوان المسلمین کے ترجمان نے کہا تھا ’یہ غیر قانونی حکومت ہے اور وہ غیر قانونی وزیراعظم اور کابینہ کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔‘
مصر میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔







