مصر: نئے آئین کی تشکیل پر کام کا آغاز

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور کی طرف سے نامزد کردہ دس ارکان پر مشتمل قانونی ماہرین کا پینل ملکی آئین میں ترامیم کرنے کے لیے اتوار کو کام شروع کرے گا۔
قانونی ماہرین کے پاس ملک میں نئے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے آئینی ترامیم کا مسودہ تیار کرنے کے لیے 30 دن ہیں۔
سابق صدر محمد مرسی کے بنائے ہوئے مصر کے آئین کو معطل کر دیا گیا ہے۔
محمد مرسی کے بنائے ہوئے آئین کو دسمبر 2012 میں ہونے والے ریفرینڈم میں منظور کرایا گیا تھا۔ حزبِ اختلاف نے اعتراض کیا تھا کہ وہ آئین بہت مذہبی تھا جس میں سابق صدر مرسی کے اختیارات کو وسعت دی گئی تھی اور اس میں آزادیِ رائے و مذہب کے حق کا تحفظ نہیں کیا گیا تھا۔
ملک کے عبوری صدر کی طرف سے سنیچر کو جاری فرمان میں چار یونیورسٹی پروفیسروں اور چھ ججوں پر مشتمل کمیٹی کو آئین میں ترامیم کے لیے ایک بڑے پچاس ممبر پینل کو تجاویز دینے کا کہا گیا ہے۔
پچاس ممبر پینل میں مذہبی سرکاری اہلکار، سیاستدان، تجارتی تنظیموں کے نمائندے اور فوجی افسر شامل ہیں۔کمیٹی کا ہر پانچواں رکن انقلاب کے دوران مصر کی گلیوں میں چلنے والی تحریک میں شامل نوجوان مرد و خواتین ہوں گے۔
اس پینل کے پاس آئینی ترامیم کے لیے دی گئی تجاویز پر غور کرنے کے لیے 50 دن ہوں گے۔ ترمیم شدہ آئین پر ملک میں ریفرینڈم کرایا جائے گا جس کے بعد پارلیمانی انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔
محمد مرسی کی سیاسی جماعت اخوان المسلمین نے آئین میں ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علاوہ ازیں سابق صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹانے کے خلاف ان کے حامیوں کی طرف سے نصر شہر اور قاہرہ میں احتجاج جاری ہے۔
اخوان المسلمین کے حامیوں نے محمد مرسی کو تین جولائی کو اقتدار سے علیٰحدہ کرنے کے خلاف جمعے کو ملک بھر میں احتجاجی جلوس نکالے۔
ملک کے عبوری وزیرِاعظم حازم البیبلی نے سنیچر کو اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ انھیں امید ہے کہ تمام فریقین قومی مشاورت کے عمل میں حصہ لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ملک میں عوام منقسم ہوں تو ہم آئین تیار نہیں کر سکتے۔ ہمیں ہم آہنگی پیدا کرنی ہے۔‘
اخوان المسلمین نے قومی یک جہتی پیدا کرنے کے اعلانات اور آئین میں ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ مصر میں تین جولائی کو فوج نے صدر مرسی کی حکومت برطرف کر کے آئین معطل کر دیا تھا۔ فوج کا موقف ہے کہ انھوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں اور عوام کی خواہشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔
مصر میں جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد عبوری کابینہ نے حلف اٹھایا ہے لیکن اخوان المسلمین نے عبوری کابینہ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
اخوان المسلمین کے ترجمان نے کہا تھا ’یہ غیر قانونی حکومت ہے اور وہ غیر قانونی وزیراعظم اور کابینہ کو تسلیم نہیں کرتے۔‘
مصر میں گذشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔







