کابل: خودکش حملے میں چار نیپالیوں سمیت سات ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نیٹو فورسز کو انتظامی خدمات فراہم کرنے والے ایک ادارے کی عمارت پر خودکش حملہ ہوا ہے۔
منگل کی صبح ہوئے اس حملے میں اطلاعات کے مطابق چار نیپالی محافظوں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کابل کی پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملے کے لیے بارود سے بھرا ٹرک استعمال کیا گیا۔
افغان دارالحکومت میں بم حملوں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ہفتے شہر کے محفوظ ترین علاقے میں صدارتی محل کے قریب ایک حملہ ہوا تھا جس میں دھماکے کے بعد آدھا گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
اس حملے میں تین محافظ اور چار حملہ آور ہلاک ہوئے تھے اور اس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔
منگل کے روز ہوئے تازہ حملے میں شہر کے شمال میں واقع جائے وقوعہ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھائی دیے۔ اطلاعات کے مطابق جس ٹرک کو روکا گیا اُس میں کم از کم ایک حملہ آور سوار تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد کم از کم دو مزید افراد نے عمارت کے باہر تعینات محافظوں پر فائرنگ شروع کر دی۔
کابل پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تمام حمل آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ نیٹو افواج نے باضابطہ طور پر افغانستان میں سکیورٹی اور جنگی آپریشنز کی قیادت افغان حکومت کے حوالے کر دی تھی۔
ملک میں جنگی آپریشنز کی نیٹو سے افغان حکام کو منتقلی ملک سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کا اہم مرحلہ ہے۔ ساڑھے تین لاکھ افراد پر مشتمل افغان فوج کو نیٹو نے سنہ 2011 سے مرحلہ وار ذمہ داریاں سونپنا شروع کر دی تھیں۔
اس سلسلے میں منعقد تقریب سے تھوڑی دیر پہلے ہی دارالحکومت کابل کے مغربی حصے میں ایک دھماکے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔
ادھر طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے گذشتہ کچھ عرصے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے تاہم اسی سلسلے میں طالبان کے قطری دارالحکومت دوحہ میں دفتر کھولنے پر افغان صدر حامد کرزئی کو کئی اعتراضات تھے۔
سنیچر کو برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغانستان کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں صدر حامد کرزئی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اُن کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کو افغانستان کے مستقبل میں کردار ادا کرنا ہے تو انھیں سیاسی عمل میں شرکت کرنی ہوگی۔
یاد رہے کہ حال ہی میں برطانیہ کے جنرل نِک کارٹر نے کہا تھا کہ مغرب کو طالبان کے ساتھ ایک دہائی قبل ہی مذاکرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی جب ان کی حکومت افغانستان میں ختم کی تھی۔ جنرل کارٹر کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2014 میں اتحادی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان فوج کو فوجی اور مالی امداد کی ضرورت ہو گی۔







