’طالبان کو سیاسی عمل میں آنا ہوگا‘

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون سنیچر کی شب دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں انھوں نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات کے دوران صدر زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا حامی ہے اور افغانستان میں دیر پا امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق ملاقات میں وزیراغظم کیمرون نے پاکستانی صدر کو جمہوری انتقالِ اقتدار پر مبارکباد دی۔
برطانوی وزیرِاعظم اس دورے پر اپنے ہم منصب میاں نواز شریف کے علاوہ کاروباری برادری سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
پاکستان آمد سے قبل وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغانستان کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں صدر حامد کرزئی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اُن کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کو افغانستان کے مستقبل میں کردار ادا کرنا ہے تو انھیں سیاسی عمل میں شرکت کرنی ہوگی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’طالبان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اُنھیں ہتھیار پھینکنا ہوں گے۔‘
تاہم وزیرِاعظم کیمرون نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں امن لانے کے عمل میں افغانوں کو پیش پیش ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ’افغان ملکیت‘ اور ’افغان رہنمائی‘ میں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کیمرون نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل افغان عوام کے ہاتھ میں ہے۔ ’طالبان کو پیش رفت دیکھ کر احساس ہو رہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل میں وہ تشدد کے ذریعے جگہ نہیں بنا سکیں گے اور اس کے لیے انھیں ہتھیار پھینک کر سیاسی عمل میں شامل ہونا پڑے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’تاہم میں یہ انتہائی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں امن لانے کے عمل کے بارے میں فیصلہ افغانستان کرئے گا۔‘
اس موقع پر صدر حامد کرزئی نے کہا کہ طالبان کی جانب سے دہشتگردی جیسے چند روز قبل کابل میں صدارتی محل پر ہوئے حملے، افغان عوام کو امن لانے سے نہیں روکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ افغانوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ ہم پھر بھی امن مانگتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ قدرے غیر اہم تھا۔ ’ہمیں اُس وقت تشویش زیادہ ہوتی ہے جب وہ افغان شہریوں کو مارتے ہیں، جب وہ افغان سکولوں اور بچوں کو مارتے ہیں۔ میری خواہش ہوگی کہ وہ اپنا سارا وقت باقی ملک کی بجائے صدارتی محل پر حملے کرنے میں گزار دیں۔‘
اس سے قبل برطانیہ کے جنرل نِک کارٹر نے کہا تھا کہ مغرب کو طالبان کے ساتھ ایک دہائی قبل ہی مذاکرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی جب ان کی حکومت افغانستان میں ختم کی تھی۔
نیٹو کی اتحادی فوج کے نائب کمانڈر جنرل نِک کارٹر نے کہا تھا کہ اس وقت سیاسی حل نکالنا آسان تھا کیونکہ طالبان کو اُس وقت شکست کا سامنا تھا۔
یہ بات انہوں نے برطانوی اخبار گارڈیئن کو ایک انٹرویو میں کہی۔ برطانوی جنرل کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان نے دفتر قائم کیا ہے جس کا مقصد امن مذاکرات کرنا ہے۔







