’امن لشکروں کے کردار میں تبدیلی‘

    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں حکومت کی طرف سے طالبان مخالف امن لشکروں کے کردار میں تبدیلی کی وجہ سے حکومتی حامی لشکروں کے سربراہوں اور رضاکاروں پر کچھ عرصے سے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں بدھ کو ہونے والے ایک تازہ واقعے میں حکومتی حامی امن کمیٹی کے سربراہ پر حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی صبح بنوں کے علاقے زندی فلک شیر میں پیش آیا۔ بنوں پولیس کے ایک اہلکار عرفان نے بی بی سی کو بتایا کہ جانی خیل امن کمیٹی کے سربراہ ملک ہاشم اپنے بیٹے اور رشتہ دار کے ہمراہ اپنی گاڑی میں جا رہے تھے کہ سڑک کے کنارے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنے۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں امن کمیٹی کے سربراہ سمیت تینوں افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ مرنے والے افراد کے جسم کے ٹکڑے دور دور تک پھیل گئے جبکہ گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ان کے مطابق امن کمیٹی کے سربراہ ملک ہاشم خان پر اس سے پہلے ایک مرتبہ قاتلانہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ادھر دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں حکومت کی جانب سے کچھ عرصہ سے طالبان مخالف امن لشکروں کے کردار میں تبدیلی لائی جا رہی ہے جس سے حکومتی حامی افراد پر حملوں میں بھی تیزی آ رہی ہے۔

پہلے ان لشکروں کو طالبان کے خلاف کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل تھا لیکن اب حکومت نے ان کے کردار کو محدود کر کے ان کو پولیس یا سکیورٹی فورسز کی مدد کرنے یا شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع دینے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

پشاور کے مضافاتی علاقوں بڈھ بیر اور متنی کے علاقوں میں پہلے تین امن لشکر قائم تھے لیکن کچھ عرصہ سے ان لشکروں کے رہنماؤں پر شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کی وجہ سے یہ لشکر اب بظاہر غیر فعال ہوگئے ہیں۔ ان لشکروں سے حکومت کی طرف سے دیے گئے پولیس گارڈز بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکومتی حامی ان لشکروں میں اکثریت جرائم پیشہ افراد شامل ہوگئے تھے جو حکومت کی حمایت کا غلط فائدہ اٹھا کر اس کی آڑ میں ذاتی مفادات حاصل کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے اختیار کو محدود کر دیا گیا۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ان میں سے بعض امن لشکروں کو ختم کیا جا رہا ہے لیکن پشاور میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کے تعاون کا طریقہ اب تبدیل کیا جا رہا ہے۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور عمران شاہد کے مطابق ان امن لشکروں کی اپنی اہمیت ہے اور انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں جس سے وہ انکار نہیں کرتے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اب ضرورت کے مطابق ان کے کردار میں تبدیلی لائی گئی ہے اور اب یہ لشکر انہیں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع دیں گے اور دیگر کاموں میں حکومت اور فورسز کی مدد کریں گے۔

خیال رہے کہ تقریباً چھ سال قبل فاٹا میں حکومت کی کوششوں سے سب سے پہلے عام افراد پر مشتمل مقامی ملیشاء فورس یا لشکر تشکیل دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔

ابتداء میں کچھ قبائلی علاقوں جیسے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں لشکروں نے طالبان کے خلاف کئی موثر کارروائیاں بھی کیں جس کے بعد ان لشکروں کا دائرہ قبائلی علاقوں سے خیبر پختونخوا کے اضلاع تک بڑھا دیا گیا۔

تاہم دوسری طرف جب طالبان نے ان لشکروں پر ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مختلف علاقوں میں جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا تو ان کی طاقت کمزور پڑتی گئی۔

شدت پسندوں کے حملوں کو دیکھتے ہوئے کئی علاقوں میں لشکروں کے افراد نے حکومت کی حمایت ترک کرکے امن کمیٹیوں سے لاتعلقی کے اعلانات کیے۔