شامی باغیوں کو ’فوری امداد‘ دینے کا فیصلہ

جمعے کے روز باغیوں کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس ایسے ہتھیار آئے ہیں جن سے جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے
،تصویر کا کیپشنجمعے کے روز باغیوں کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس ایسے ہتھیار آئے ہیں جن سے جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے

شام کے باغیوں کے حامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے باغیوں کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہوئے انہیں فوری طور پر تمام ضروری سازوسامان اور آلات فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سنیچر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ’فرینڈ آف سریا‘ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں یہ بات کہی گئی۔

اجلاس میں شریک امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس موقف کو بھی دوہرایا کہ شام کے مسئلے کا اصل حل سیاسی ہے نہ کہ فوجی تاہم انہوں نے کسی نئے اقدام کی پیشکش نہیں کی۔

فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اور لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ شام کے تنازع سے دور رہیں۔

انھوں نے کہا کہ حزب االلہ نے شام کے سرحدی علاقے قصیر پر دوبارہ حکومتی کنٹرول حاصل کرنے میں مدد فراہم کر کےمنفی کردار ادا کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے شامی باغیوں کو فوجی سازوسامان کی فراہمی کے بعد ’فرینڈ آف سریا‘ کا یہ پہلا اجلاس ہے۔ان ممالک میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، مصر، اردن، ترکی اور سعودی عرب شامل ہیں۔

اجلاس میں شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا گیا ہے۔

اجلاس کے موقع پر قطر کے وزیر خارجہ حماد بن جاسم بن جابر ال تھانی نے کہا کہ’ہو سکتا ہے کہ ہتھیار فراہم کرنے کا مقصد امن قائم کرنا ہے‘۔

تاہم انہوں نے اور امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پالیسی بہت سادہ ہے کہ شام میں طاقت کا توازن قائم کیا جائے اور وہاں حکومت کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔

امریکی حکومت کی جانب سے باغیوں کو براہ راست عسکری امداد فراہم کرنے کے اعلان کے بعد یہ فرینڈز آف سریا کے وزرائے خارجہ کا یہ پہلا اجلاس ہے۔

امریکہ کا کہنا تھا کہ اُس کے پاس شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے چھوٹے پیمانے پر استعمال کے شواہد ہیں اور اس کے جواب میں باغیوں کو مسلح کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

گزشتہ روز جمعہ کو باغیوں کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس ایسے ہتھیار آئے ہیں جن سے جنگ کا پانسا پلٹ سکتا ہے۔ تاہم باغیوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار امریکہ سے نہیں آئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں یہ بھی زیرِ بحث آئے گا کہ منحرف شام فوجیوں کی تنظیم کس طرح شمالی شہر حلب پر اپنا قبضہ قائم رکھ سکتی ہے جو کہ باغیوں کے زیرِ اثر آخری اہم شہر ہے۔

حال ہی میں باغیوں کو حکومتی فورسز کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

جمعہ کو روسی صدر ولادمیر پوتن نے ایک بار پھر مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ شامی باغیوں کو ہتھیار نہ دیے جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صدر بشارالاسد کی حکومت گرتی ہے اور اس کی سیاسی جگہ دہشت گرد لے لیں گے۔

شام میں گذشتہ دو سال سے جاری کشیدگی میں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تقریباً نوے ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صدر بشارالاسد کا کہنا ہے کہ اُن کی حکومت بیرونی قوتوں کی حمایت رکھنے والے دہشت گردوں سے لڑ رہی ہے۔