’2012 میں چھہتر لاکھ افراد پناہ گزین بنے‘

اس تعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی برادری کشیدگی کو روکنے میں کس قدر ناکام ہے ۔ یو این ایچ سی آر کے سربراہ اینتونیو گترز
،تصویر کا کیپشناس تعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی برادری کشیدگی کو روکنے میں کس قدر ناکام ہے ۔ یو این ایچ سی آر کے سربراہ اینتونیو گترز

اقوامِ متحدہ کے مطابق سنہ دو ہزار بارہ میں سات اعشاریہ چھ ملین افراد پناہ گزین بنے ہیں۔ دنیا میں اس وقت پناہ گزینوں کی کُل تعداد تقریباً پینتالیس ملین ہے۔ سنہ انیس سو چوارنوے کے بعد یہ اب تک پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر کے مطابق اس بڑھتی ہوئی تعداد میں شام کا تنازعہ ایک اہم عنصر ہے۔

ادارے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں پچپن فیصد پناہ گزینوں کا تعلق پانچ ممالک، افغانستان، صومالیہ، عراق، سوڈان اور شام سے ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دنیا کے اکاسی فیصد پناہ گزینوں کی میزبانی ترقی پزیر ممالک کر رہے ہیں۔ ایک دہائی قبل کے مقابلے میں یہ شرح گیارہ فیصد زیادہ ہے۔

یو این ایچ سی آر کے سربراہ اینتونیو گترز کا کہنا تھا کہ ’یہ تعداد انتہائی پریشان کن ہے۔ اس سے نہ صرف بڑے پیمانے پر انفرادی تکالیف کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عالمی برادری کشیدگی کو روکنے اور مسائل کے بر وقت حل میں کس قدر ناکام ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چھہتر لاکھ پناہ گزینوں کا مطلب ہے کہ ہر چار اعشاریہ ایک سیکنڈ بعد ایک نئے شخص کو اپنا گھر چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ ’آپ کے ہر پلک جھپکنے پر ایک اور شخص پناہ گزین بن رہا ہے۔‘

یہ معلومات ادارے کی اپنی تحقیق اور دیگر حکومتی ذرائع اور غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے اکھٹی کی گئی ہیں۔

پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد افغانستان سے آئی ہے اور وہاں کے پچانوے فیصد پناہ گزین پاکستان اور ایران میں ہیں۔ گذشتہ بتیس سال سے دنیا کے سب سے زیادہ پناہ گزین افغانستان سے آئے ہیں۔

دو ہزار بارہ کے اعداد و شمار کے مطابق تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر صومالی باشندے، تیسرے پر عراقی اور چوتھے پر شامی افراد ہیں۔

واضح رہے رپورٹ میں رواں سال شام سے نقل مکانی کرنے والے مزید دس لاکھ افراد کا شمار نہیں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو اس سال کے آخر تک مزید بیس لاکھ افراد شام سے ہجرت کریں گے۔

آئندہ چند روز میں اقوام متحدہ چند یورپی ممالک سے ان افراد کی کچھ تعداد سنبھالنے کے لیے کہے گا۔

رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک مالی اور جمہوریہ کونگو سے بھی ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔