شام کا بحران: ’کانفرنس جلد منعقد کی جائے‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملاقات کے بعد دونوں سربراہان کے چہروں پرتناؤ دکھائی دیا
،تصویر کا کیپشننامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملاقات کے بعد دونوں سربراہان کے چہروں پرتناؤ دکھائی دیا

شمالی آئر لینڈ میں دنیا کے آٹھ طاقتور ممالک جی ایٹ کے سربراہی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ شام کے بحران پر جنیوا میں ہونے والی کانفرنس کا انعقاد جلد سے جلد ہونا چاہیے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ سربراہی اجلاس میں بنیادی اختلافات کو ختم کر لیا گیا ہے ۔

تاہم اس اجلاس میں جنیوا کانفرنس کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل امریکہ اور روس کے صدور نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شام کے معاملے پر دونوں ممالک کے موقف متضاد ہیں۔

تاہم انھوں نے اس سلسلے میں جنیوا میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے لیے کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔

امریکی صدر اوباما اور روسی صدر ولادمیر پوتن شمالی آئرلینڈ میں دنیا کے آٹھ طاقتور ممالک، جی ایٹ، کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

دونوں صدور کا کہنا تھا کہ موقف میں اختلاف کے باوجود ان کے درمیان امن کی خواہش پر اتفاق ہے۔

اُنھوں نے ایران میں انتخابات کے بعد اچھی توقعات کا اظہار بھی کیا۔

اس سے پہلے جی ایٹ ممالک نے عالمی معیشت پر بحث کی اور سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی معیشت میں بہتری کے امکانات ابھی دور ہیں۔

جی ایٹ میں امریکہ اور روس کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔

اجلاس کے علاوہ صدر اوباما اور صدر پوتن نے دو گھنٹے تک علیحدہ ملاقات کی جس کے بعد دونوں رہنمائوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس موقع پر دونوں سربراہان کے چہروں پرتناؤ دکھائی دیا۔

صدر پوتن نے شام کے حوالے سے کہا کہ ’ہمارا موقف ایک دوسرے سے نہیں ملتا مگر ہم تشدد ختم کرنے، ہلاکتوں کی تعداد کو روکنے اور مسائل کو پرامن انداز میں حل کرنے کے عزم میں متفق ہیں۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ دونوں سربراہان نے اپنی ٹیموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنیوا میں شام کے معاملے پر امن کانفرنس کے انعقاد کی کوشش کریں۔

ادھر شامی حکومت یا شامی باغیوں میں سے کسی نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔

شام میں گذشتہ دو سال سے جاری شورش میں تقریباً ترانوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صدر اوباما اور صدر پوتن نے کہا کہ وہ ستمبر میں ماسکو میں ملاقات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر اوباما اس اجلاس میں شامی پناہ گزینوں کی امداد کے لیے مزید تین سو ملین ڈالر دینے کا اعلان بھی کریں گے۔

اس سے پہلے برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے روسی صدر سے اتوار کو ملاقات کی تھی جس کے بعد اُن کا کہنا تھا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ برطانیہ اور روسی صدر کے مابین شام کے معاملے پر اختلافات ہیں لیکن دونوں کا مقصد شام میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا ہے۔

ولادیمیر پوتن کا کہنا تھا کہ شام میں خونریزی کے لیے دونوں اطراف یعنی شامی حکومت اور باغی ذمہ دار ہیں اور روس شام کی جائز حکومت کو ہتھیار مہیا کرنے میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔

امریکہ نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو دیکھنے کے بعد بعض شامی باغیوں کو براہ راست اسلحہ فراہم کرے گا۔

برطانوی وزیرِاعظم نے یورپین یونین کی طرف سے شامی باغیوں کے خلاف اسلحہ مہیا کرنے کی پابندی کو ختم کرنے کی حمایت کی تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے کہ کیا برطانیہ شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرے گا یا نہیں۔

پیر کو شامی صدر بشار الاسد نے ایک انٹرویو میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کی اور تنبیہ کی کہ باغیوں کو ہھتیار دینے سے یورپ میں براہِ راست دہشتگردی برآمد ہوگی۔

شمالی آئرلینڈ میں جی ایٹ سربراہی اجلاس کے موقع پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

ممکنہ مظاہروں سے نمٹنے اور سکیورٹی کے لیے تقریباً آٹھ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔