شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی شدید مذمت

جی ایٹ میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کینیڈا اور روس شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنجی ایٹ میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کینیڈا اور روس شامل ہیں

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں جی ایٹ ملکوں کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

جی ایٹ کے اجلاس کے ایجنڈے پر کوریا اور شام کے تنازعات سرِ فہرست تھے۔

جمعرات کو اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں شام کے تنازع پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جی ایٹ کا رکن جاپان کوریا کے مسئلے پر یکجہتی کے اظہار کے لیے سخت بیان چاہتا تھا۔

بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جیمز روبنز کے مطابق جی ایٹ وزراء خارجہ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کی جنگ جویانہ دھمکیاں اور نئے میزائل تجربات کا مطلب خطرناک اشتعال انگیزی ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کو لندن میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا، ’شمالی کوریا کے مسئلے پر امریکہ کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘

جنوبی کوریا نے شمال کی طرف میزائل کے تجربے کی اطلاعات کے بعد چوکسی کا درجہ بڑھا دیا ہے۔

شمالی کوریا نے اپنی تند و تلخ بیان بازی میں اس وقت اضافہ کر دیا تھا جب اقوامِ متحدہ نے اس کے تیسرے جوہری تجربے کے بعد نئی پابندیاں لگا دی تھیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں نے بھی شمالی کوریا کو برہم کیا ہے۔

اجلاس میں جی ایٹ رہنماؤں نے تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے حوالے سے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔

پہلے دور کے خاتمے کے بعد برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے کہا کہ’جیسا کے آپ توقع کر رہے تھے، شام، ایران، شمالی کوریا اور شمالی افریقہ کے بارے میں سخت فیصلے کیے گئے ہیں‘۔

برطانوی وزیر خارجہ کے بقول تنازعات کے دوران جنسی تشدد کا خاتمہ ان کی ذاتی ترجیح تھی اور بات چیت میں وزراء خارجہ نے جنسی تشدد کے خاتمے کے حوالے سے مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے‘۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کے مطابق وزراء خارجہ نے جنسی تشدد سے نمٹنے کے منصوبوں پر اتفاق کیا ہے کہ’ دنیا بھر میں تنازعات کے دوران خوفناک طریقے جنسی تشدد اور ریپ کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ دنیا میں سب سے بڑی اور تسلسل سے جاری ناانصافی ہے‘۔

’جی ایٹ نے پرعزم ہے کہ تنازع میں جنسی تشدد اور ریپ کے واقعات کے تحقیقات اور ان کو ریکارڈ کرنے کے حوالے سے ایک جامع بین الاقوامی پروٹوکول ترتیب دیا جائے گا‘۔

اسی دوران جی ایٹ کے وزرا نے بدھ کے روز شامی حزبِ اختلاف کے ارکان سے بھی ملاقات کی۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے برعکس شام کے معاملے پر جی ایٹ منقسم ہے، اور اس بات کی کوئی بھی توقع نہیں کر رہا کہ روس اپنے اتحادی شامی صدر بشار الاسد کے خلاف تادیبی پابندیوں کی حمایت کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ تازہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ شامی حزبِ اختلاف اور القاعدہ میں روابط ہیں۔ اس سے کوئی واضح لائحۂ عمل اختیار کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

بدھ کے روز شامی قومی اتحاد کے رہنماؤں نے زیادہ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ شامی حزبِ اختلاف اپنے آپ کو زیادہ منظم کرے۔

لندن میں ہونے والے ان مذاکرات کے دوران جی ایٹ وزرا کو گذشتہ ہفتے قزاقستان کے شہر الماتی میں ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کی ناکامی پر بھی براہِ راست گفتگو کرنے کا موقع ملا۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ محض توانائی پیدا کرنا چاہتا ہے، لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی سمجھتے ہیں کہ ایران ایٹمی اسلحہ بنانا چاہتا ہے۔

برما، صومالیہ اور سائبر سکیورٹی بھی ایجنڈے پر موجود تھے۔