جی ایٹ اجلاس میں شامی کشیدگی اہم موضوع

جی ایٹ ممالک کا انتالیسواں سربراہی اجلاس شمالی آئرلینڈ میں پیر کو شروع ہو رہا ہے جہاں شام میں جاری کشیدگی ممکنہ طور پر اہم موضوع ہو گا۔
برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے جو شامی حکومت کے بڑے اتحادی ہیں اتوار کو ملاقات کی ہے۔
روسی صدر اور برطانوی وزیرِاعظم امریکی صدر براک اوباما سے علیحیدہ علیحیدہ ملاقاتیں کریں گے۔
توقع ہے کہ برطانوی وزیرِاعظم اجلاس شروع ہونے سے پہلے جبکہ روسی صدر شام کو صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے شامی باغیوں کو مسلح کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
ڈیوڈ کیمرون جو اس اجلاس کے میزبان ہیں عالمی معاشی مسائل پر بھی بات چیت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
پیر اور منگل کو ہونے والے اس اجلاس میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس، امریکہ اور برطانیہ شریک ہونگے۔
ڈیوڈ کیمرون نے روسی صدر سے ملاقات کے بعد کہا کہ یہ بات کسی ڈھکی چھپی نہیں کہ ان کے اور روسی صدر کے مابین شام کے معاملے پر اختلافات ہیں لیکن دونوں کا مقصد شام میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ولادیمیر پوتن نے کہا کہ شام میں خونریزی کے لیے دونوں شامی حکومت اور باغی ذمہ دار ہیں اور روس شام کے جائز حکومت کو ہتھیار مہیا کرنے میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔
امریکہ نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو دیکھنے کے بعد بعض شامی باغیوں کو براہ راست اسلحہ فراہم کرے گا۔
برطانوی وزیرِاعظم نے یورپین یونین کی طرف سے شامی باغیوں کے خلاف اسلحہ مہیا کرنے کی پابندی کو ختم کرنے کی حمایت کی تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے کہ کیا برطانیہ شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرے گا یا نہیں۔
شام میں دو سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران ترانوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جی ایٹ اجلاس میں ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔
سربراہی اجلاس شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور صدر براک اوباما اٹلی کے وزیراعظم انریکو لیٹا، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا ہولاند سے ملاقات کریں گے تاکہ امریکہ اور یورپین یونین کے درمیان آذاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع ہو سکے۔
شمالی آئرلینڈ میں جی ایٹ سربراہی اجلاس کے موقع پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
ممکنہ مظاہروں سے نمٹنے اور سکیورٹی کے لیے تقریباً آٹھ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔







