’ضمانت کے بغیر سٹریٹیجک معاہدہ افغانستان کے حق میں نہیں‘

افغان صدر نے یہ بات دارالحکومت کابل میں مقامی قبائلی عمائدین سے بات کرتے ہوئے کہی
،تصویر کا کیپشنافغان صدر نے یہ بات دارالحکومت کابل میں مقامی قبائلی عمائدین سے بات کرتے ہوئے کہی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدے سے پہلے اپنے ملک میں امن اور احتساب کے حوالے سے ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔

افغان صدر نے یہ بات دارالحکومت کابل میں مقامی قبائلی عمائدین سے بات کرتے ہوئے کہی۔

صدر حامد کرزئی نے کہا ’ہم افغانستان میں امن، سکیورٹی، احتساب اور دوستانہ تعلقات کے حوالے سے ضمانتیں ملنے کے بعد امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اگر امن اور احتساب کے حوالے سے کوئی ضمانت نہیں دی جائے تو یہ معاہدہ افغانستان کے حق میں نہیں ہو گا۔‘

خیال رہے کہ سنہ 2014 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں امن اور سلامتی کے حوالے سے امریکہ اور افغانستان کے درمیان سٹریٹیجک پارٹنر شپ کے مزاکرات کے مختلف حصوں پر بات چیت جاری ہے۔

اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی نے نو مئی 2013 کو کابل یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ افغانستان کی سکیورٹی اور لمبے عرصے تک مالی امداد کی یقین دہانی کرائے تو وہ 2014 کے بعد امریکہ کو نو فوجی اڈے قائم رکھنے کی اجازت دینے پر تیار ہیں۔

افغان صدر نے کہا تھا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ پارٹنرشپ کے معاہدے پر دستخط کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ وہ افغانستان کی سکیورٹی، فوجی اداروں کی مدد اور لمبے عرصے تک مالی امداد کی یقین دہانی کراے۔

اس تقریر کے بعد یہ ایک اور موقع ہے جب افغانستان کے صدر نے 2014 میں نیٹو افواج کی افغانستان سے روانگی کے بعد امریکی اڈوں کے حوالے سے کچھ کہا ہے۔

افغان صدر نے کہا تھا کہ امریکہ 2014 میں فوجوں کے انخلاء کے بعد بھی کابل، بگرام، مزارِ شریف، جلال آباد، گردیز، قندھار، ہلمند، شنداد اور ہرات میں اپنے اڈے قائم رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم ان کو اڈے دینے پر رضامند ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی افغانستان کے لیے مفید ہے۔ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ اچھے تعلقات افغانستان کے لیے فائدہ مند ہیں۔‘

صدر کرزئی نے کہا تھا کہ افغانستان چاہتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے اور لمبے عرصے تک مالی مدد کی یقین دہانی کرائے۔

ابھی تک کسی امریکی اہلکار نے افغانستان کے صدر کے اس بیان پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔