کرزئی قطر میں، طالبان کے دفتر پر مذاکرات

افغانستان کے صدر حامد کرزئی خلیجی ریاست قطر کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران اتوار کے روز قطر کے امیر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں جس میں طالبان کا سیاسی دفتر کھولنے کے معاملے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
صدر کرزئی کے ایک سینیئر ساتھی نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر کرزئی اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ قطر میں طالبان کا دفتر قائم ہوتا ہے تو اسے فنڈز جمع کرنے کے یے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
ساتھ ہی کابل یہ چاہتا ہے کہ طالبان اعلان کر دیں کہ وہ افغان حکومت سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور وہ تشدد ختم کرنے اور القاعدہ سے تمام تر تعلقات منقطع کرنے پر آمادہ ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کھولنے کے معاملے کا حامد کرزئی سے تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ معاملہ طالبان اور قطری حکومت کے درمیان ہے۔
اے ایف پی کے مطابق طالبان کے ترجمان نے کہا کہ قطر میں پہلے سے موجود طالبان کے نمائندے حامد کرزئی سے ملاقات یا بات چیت نہیں کریں گے۔
طالبان کے ایک درجن کے قریب سیاسی ممبران گذشتہ ایک سال سے قطر میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم ہیں، لیکن افغان طالبان نے اب تک اپنے دفتر کے باقاعدہ آغاز کی تصدیق نہیں کی ہے۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر کرزئی کے ایک قریبی ساتھی کے بقول دوحہ میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے ان کے دفتر کی قیام میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ لیکن اگر طالبان امن کونسل سے بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اس دفتر کی اہمیت بہت کم رہ جائے گی۔
اگر یہ دفتر کھل جاتا ہے تو یہ طالبان کا افغانستان سے باہر پہلا باضابطہ دفتر ہو گا اور یہ طالبان کی طرف سے بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی سمت میں پہلا قدم ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف افغان صدر حامد کرزئی کے نقطۂ نظر سے اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ اگلے برس امریکی لڑاکا فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد بھی ان کے اقتدار میں رہنے کے امکانات بڑھا دے گا۔
اب تک طالبان براہِ راست صدر کرزئی سے بات چیت کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ وہ انھیں محض امریکی کٹھ پتلی سمجھتے رہے ہیں۔







