حامد کرزئی دہلی میں، فوجی امداد کے طالب

افغانستان کے صدر حامد کرزئی آئندہ برس بیرونی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بھارت سے فوجی امداد کے لیے دہلی کے دورے پر ہیں۔
حامد کرزئي پیر کی شام کو دہلی پہنچے۔ وہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کریں گے۔
بھارت پہلے ہی افغان افواج کو تربیت دینے کا کام کر رہا ہے لیکن وہ اسے فوجی ساز و سامان مہیا نہیں کرتا ہے۔
حامد کرزئی کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان ’اپنی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی مضبوطی کے لیے بھارت سے ہر طرح کی مدد کی درخواست کرےگا‘۔
بھارت میں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان اس طرح کے فوجی تعاون کو پاکستان میں شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
گزشتہ برس بھارت نے افغانستان کے ساتھ کان کنی اور ترقیاتی منصوبوں کے معاہدے کیے تھے اور اسے دو ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برس امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو افواج کے انخلاء کے پس منظر میں دونوں ملک رشتے مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
منگل کو بھارت کے صوبہ پنجاب کی یونیورسٹی میں حامد کرزئي کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا گيا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقع پر انہوں نے کہا ’بھارت افغانستان کا ایک دوست ہے جس نے ملک کے نوجوانوں کی بہتری کے لیے اہم رول ادا کیا ہے‘۔







