ڈیورنڈ لائن ایک حل شدہ معاملہ ہے: پاکستان

پاکستان سرحدی علاقوں میں جھڑپیں کرا کے افغانستان کی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے: کرزئی
،تصویر کا کیپشنپاکستان سرحدی علاقوں میں جھڑپیں کرا کے افغانستان کی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے: کرزئی

پاکستان نے افغان صدر حامد کرزئی کے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنے کے بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک حل شدہ معاملہ ہے اور اس پر دوبارہ بحث سے پاکستان اور افغانستان کے مابین دوسرے اہم مسائل پر تعاون سے توجہ ہٹ جائے گی۔

واضح رہے کہ افغان صدرحامد کرزئی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ڈیورنڈ لائن افغانستان پر مسلط کی گئی ہے جسے کسی افغان حکومت نے تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی حکومت آئندہ ایسا کرے گی۔

دریں اثناء پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی جاری ہے اور پیر کو افغان حکام کے مطابق ضلع گوشتا میں افغانستان اور پاکستانی سرحدی محافظوں کے مابین ایک بار پھر جھڑپ ہوئی ہے۔

افغان اہلکار نے بتایا کہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان نے اس سرحدی گیٹ کی مرمت شروع کی جو چند روز پہلے ہونے والی جھڑپ میں تباہ ہو گیا تھا۔ابھی تک پاکستان کی جانب سے اس تازہ جھڑپ کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور افغانستان اور دوسرے شریک فریقین کو ملک کر کام کرنا چاہیے۔

بیان کے مطابق ماضی میں افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان سے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کو کہا تھا جس کا پاکستان نے مثبت جواب دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان منفی چیزوں پر توجہ دینے کے بجائے افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا

پاک افغان سرحد پر پاکستان کے چک پوسٹ کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ گورسل چک پوسٹ پر افغان سکیورٹی فورسز نے حملہ کیا تھا اور اس حوالے سے افغان حکام نے اشتعال انگیز بیان بازی بھی کی۔ بیان کے مطابق چک پوسٹیں سرحد پر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چک پوسٹوں کے معمالات کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے مابین فوجی اور دیگر سطح پر رابطوں کے ذرائع کواستعمال کرنے چاہیے۔

خیال رہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ پاکستان سرحدی جھڑپوں کےذریعے افغانستان کو ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان حکومت کے اہلکاروں نے بارہا ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کبھی بھی اس مسئلے پر بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان سرحدی علاقوں میں جھڑپیں کرا کے افغانستان کی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔