پاک افغان سرحد پرجھڑپ افغان فوجی ہلاک، کئی زخمی

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہونے والی ایک جھڑپ میں افغانستان کی بارڈر سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اس کی سکیورٹی چیک پوسٹ پر بلا اشتعال فائرنگ سے تین فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع گوشتہ میں افغان اور پاکستانی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی ہے جس میں کم از کم ایک افغان بارڈ فورس کا اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر اس واقع پر احتجاج کیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو خراب کر رہے ہیں۔

جلال آباد میں افغان سپاہی کے نماز جنازہ کے بعد صوبہ ننگرہار کے باشندوں نے ایک مظاہرہ کیا اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین ڈیورنڈ لائن پر ایک دروازہ تعمیر کرنے کے معاملے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حال میں افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی صدر براک اوباما کو خط لکھ کر اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

افغان حکام نے کہا ہے کہ لڑائی کی وجوہات معلومات حاصل کرنے کی غرض سے ایک وفد ضلع گوشتہ روانہ کیا گیا ہے۔ کابل حکام نے سرحد پر ہونے والے لڑائی کے بارے میں رسمی طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہےکہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان فوجی اس علاقے میں تعمیراتی سامان لائے۔افغان حکام کے مطابق اس جھڑپ میں پاکستان فوج کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ادھر پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیاگیا اور ان سے افغانستان کی سیکورٹی فورسز کی چوکی سے پاکستان کی فرنٹیئر کانسٹیبلری یعنی ایف سی کی چوکی پر بلا اشتعال فائرنگ پر احتجاج کیاگیا۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ افغانستان کی طرف سے شدید فائرنگ کی گئی اور پاکستانی چوکی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایف سی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے حد درجہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور اس سنگین خلاف ورزی کے بارے میں افغانستان کے حکام کو مطلع کیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو خراب کررہے ہیں اور دو برادرانہ ممالک کے درمیان ایسا تناؤ پیدا کررہے ہیں جس سے بچا جاسکتا ہے۔

بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ آیا پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی طرف سے بھی فائرنگ کی گئی یا نہیں۔

.