روس یوکرین جنگ: کیا روس کا اسلحے کا ذخیرہ کم پڑ گیا ہے؟

روس نے رواں ہفتے یوکرین کے خلاف میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا لیکن کچھ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کے پاس مخصوص اور جدید میزائلوں کی کمی ہو گئی ہے۔
روس نے کون سے میزائل داغے ہیں؟
جیسا کہ روس نے حالیہ دنوں میں اپنے میزائل حملوں میں تیزی کی ہے، اس لیے اس کے ہتھیاروں کی نوعیت کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین نے روس کی جانب سے زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید ان کے پاس زیادہ مناسب ہتھیاروں کی کمی ہو گئی ہے۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز میں ملٹری ایرو سپیس کے سینئر فیلو ڈگلس بیری کہتے ہیں، ’حالیہ حملوں میں سب سے قابل ذکر چیز زمینی اہداف کے خلاف مختلف قسم کے میزائلوں کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔‘
’زمین پر حملہ کرنے والے کروز میزائل، یہ وہ چیز ہے جس پر ہم سوچتے ہیں کہ کچھ مسئلہ ہے۔ کم از کم کچھ علاقوں میں ختم نہیں ہو رہے، لیکن ممکنہ طور پر کمی ہو گئی ہے۔‘
روس نے جنگ کے آغاز میں پورے یوکرین میں زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بہت زیادہ درست طریقے سے گائیڈڈ میزائلوں کا استعمال کیا، لیکن موسم گرما میں یہ حملے ختم ہو گئے، کچھ مغربی دفاعی حکام نے کہا کہ ان کے ذخیرے میں نمایاں طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔
اس ہفتے، برطانوی خفیہ ایجنسی جی سی ایچ کیو کے سربراہ، سر جیریمی فلیمنگ نے کہا ہے ’ہم جانتے ہیں اور زمین پر موجود روسی کمانڈر جانتے ہیں کہ ان کی رسد اور گولہ بارود ختم ہو رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کیا شواہد ہیں؟
روس کا میزائلوں کا ذخیرہ ایک خفیہ راز ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ مغربی انٹیلی جنس سروسز کس مواد پر اپنے تجزیے کر رہی ہیں، لیکن حالیہ حملوں سے ابھرنے والی تصاویر میں کچھ اشارے موجود ہیں۔
آن لائن پوسٹ کی گئی ملبے کی کچھ تصاویر میں یوکرین میں زمین پر S-300 میزائلوں کا ملبہ دکھایا گیا ہے۔
یہ وہ ہتھیار ہیں جو اصل میں زمین پر نہیں بلکہ ہوا میں اہداف پر حملہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس طرح کی پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس نے زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ان S-300 میزائلوں کو دوبارہ استعمال کیا ہے۔
ہم نے آن لائن گردش کرنے والی تصاویر کی ایک سیریز پر گہری نظر ڈالی ہے، اور یوکرین میں زمین پر ملبے کی تین تصاویر کی تصدیق کی ہے جو S-300 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے مطابقت رکھتی ہیں حالانکہ روس اور یوکرین دونوں کے پاس یہ ہتھیار ہیں اور انھیں داغنے کا الزام وہ ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔
ہم نے S-300 کی تصاویر میں ملبے کے کنارے پر لکھی تحریر کا جائزہ لیا تو یہ اور اس کی لیبلنگ مطابقت رکھتی ہے۔
طول و عرض بھی مماثلت رکھتے ہیں۔ موازنہ ہیں۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس ان ہتھیاروں کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے کیونکہ اس کے پاس مخصوص میزائلوں کی کمی ہو گئی ہے۔

میک کینزی انٹیلی جنس سروسز میں انٹیلی جنس کے سربراہ لوئیس جونز کہتے ہیں کہ ’وہ کیئو اور لویو وغیرہ میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کافی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انھوں نے اپنے ذخیرے کا جائزہ لیا، اپنی مزید میزائل تیار کرنے کی صلاحیت کو دیکھا۔۔۔ اور یہ نتیجہ اخد کیا کہ مقاصد حاصل کا کرنا دوسرا بہترین طریقہ یہ ہے کہ S-300 میزائل جیسی چیزوں کا استمعال بدلہ جائے۔‘
روس کی جانب سے زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال سے یوکرین میں روسی فضائیہ کو درپیش آپریشنل حدود بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ اپنے حملے کے آغاز سے ہی روس کی فضائیہ یوکرین پر فضائی برتری حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
کیا یہ یوکرین کے میزائل ہو سکتے ہیں؟ یوکرینی باشندے روسی میزائلوں کو مار گرانے کے لیے S-300 کو دفاعی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں، اور روسیوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین پر گر رہے ہیں جس کی وجہ سے نقصان اور شہری ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
روس کی پارلیمنٹ کے ایک اہلکار ایوگینی پوپوف نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں کے کھیل کے میدانوں جیسے شہری علاقوں کو نقصان پہنچانا ’(یوکریئنی) اینٹی میزائل سسٹم کا کام ہے۔‘

ہتھیاروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میزائل کے ملبے سے یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ یہ کہاں سے آیا تھا۔
سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے فیلو ایان ولیمز کا کہنا ہے کہ انھوں نے حالیہ حملوں کے دوران یوکرین کے نظام سے نشانے خطا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا۔
’ملبے کی محدود تصاویر سے قطعی طور پر کہنا مشکل ہے لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یوکرین کے فضائی دفاع شہر کے مراکز میں تعینات تھے‘۔
ولیمز کہتے ہیں ’آپ دفاع کر رہے ہیں۔۔۔ کوئی بھی (یوکرینی) انٹرسیپٹرز جو کریش کر رہے ہیں ان کے شہری علاقے میں گرنے کا امکان نہیں ہے۔‘

روس نے اور کون سے ہتھیار داغے ہیں؟
روس نے جنگ کا آغاز میزائل حملوں کی بھرمار سے کیا۔ 7 مارچ تک، پینٹاگون نے اندازہ لگایا کہ روسیوں نے تنازعے کے پہلے 11 دنوں میں تقریباً 600 میزائل داغے۔
حملے زمینی، سمندری اور ہوا سے جاری رہے اور زیادہ تر محفوط روسی علاقے کے اندر سے۔
روس کے جن اقسام کے ہتھیاروں سے داغے گئے ان میں اسکندر لانچ پلیٹ فارم سے بیلسٹک اور کروز میزائل اور بحیرہ اسود میں تعینات بحری جہازوں اور آبدوزوں سے کالیبر کروز میزائل شامل ہیں۔

KH-101 اور KH-555 کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ توچکا یو میزائل بھی داغے گئے ہیں، جو اپریل میں کراماٹوسک ریلوے اسٹیشن پر 50 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی وجہ بنے۔
جون کے آخر میں کریمینچک شاپنگ سینٹر پر حملے کے بارے میں بی بی سی کے تجزیے میں، جس میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، اس بات کا تعین کیا کہ استعمال کیے گئے میزائل یا تو Kh-22s تھے یا زیادہ جدید قسم، Kh-32۔
یہ پرانے میزائل ہیں جو اصل میں زمینی اہداف کے بجائے بحری جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جس نے اس نظریے کو مزید تقویت دی ہے کہ کچھ جدید ہتھیاروں کا روسی ذخیرہ شاید کم پڑ گیا ہے۔













