روس یوکرین تنازع: کریمیا کے پُل پر بڑے دھماکے کے بعد اسے جزوی طور پر کھول دیا گیا، روس

،تصویر کا ذریعہMykhaylo Podolyak
روس اور کریمیا کے درمیان واحد پُل پر ایک بڑا دھماکہ ہوا مگر کچھ گھنٹوں بعد اسے لائٹ ٹریفک کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں کے مطابق روس کے کریمیا کے پل پر ایک بہت بڑا دھماکے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یوکرینی جزیرہ نما علاقے کریمیا کو 2014 میں روس نے اپنے اندر ضم کر لیا تھا۔
روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ پُل پر ایک ٹرک میں دھماکہ ہوا اور وہاں قریبی گاڑیوں میں موجود افراد کو نقصان پہنچا۔ دھماکے سے پل پر موجود روڈ کے کچھ حصے نیچے گر گئے تھے۔
پُل پر ریلوے کے حصے، جہاں آئل ٹینکر میں آگ لگی تھی، کو بھی بظاہر کھول دیا گیا ہے۔ سنیچر کی شام کو روس کی وزارت خارجہ نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں گاڑیوں کو یہ پُل استعمال کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ کراسنگ 2018 میں کھولی گئی تھی اور روس کے غیر قانونی الحاق کی علامت ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ایک مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے براہ راست یوکرین کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن لکھا: ’کریمیا پل، آغاز ہے۔ ہر غیر قانونی چیز کو تباہ کر دینا چاہیے، چوری کی گئی ہر چیز کو یوکرین کو واپس کیا جانا چاہیے۔ روس کے زیر قبضہ ہر چیز کو نکال باہر کیا جانا چاہیے۔‘
یوکرین کی وزارت دفاع نے پل پر ہونے والے دھماکے کا موازنہ اپریل میں روس کے ماسکو کے میزائل کروزر کے ڈوبنے سے کیا۔
اس نے ٹویٹ میں کہا کہ ’یوکرینی کریمیا میں روسی طاقت کی دو بدنام زمانہ علامتیں ختم ہو گئی ہیں۔ لائن میں آگے کیا ہے؟‘ جبکہ یوکرین کی حکومت کے سرکاری اکاؤنٹ نے ٹویٹ میں صرف یہ لکھا: ’بیمار جلنا.‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’شہری انفراسٹرکچر کی تباہی پر کیؤ حکومت کا ردعمل اس کی دہشت گردانہ نوعیت کا ثبوت ہے۔‘
اس پُل کو آگ کے شعلوں میں جلتے دیکھنے کی اہمیت اور علامت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مشکل ہے - جسے صدر پوتن نے کھولا تھا۔
روس ، اس پل کا استعمال فوجی ساز و سامان، گولہ بارود اور فوجیوں کو روس سے جنوبی یوکرین کے میدان جنگ میں منتقل کرنے کے لیے کرتا رہا ہے۔
اسی وجہ سے، یوکرین کے حکام نے کہا کہ یہ ایک جائز ہدف ہے، کیونکہ وہ کریمیا کو دوبارہ حاصل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔
کریمیا پر کسی بھی قسم کا حملہ ، جہاں روسی فوج کی بڑی تعداد موجود ہے، کریملن کے لیے ایک اور بڑے پیمانے پر ذلت کے طور پر دیکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر پوتن کا ’ہنگامی صورتحال‘ پر تحقیقات کا حکم
یوکرینی خاص طور پر اس پُل سے نفرت کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی 70ویں سالگرہ کے ایک دن بعد پیش آیا ہے اور یوکرین میں سوشل میڈیا پر اس کو دیکھ کر جشن منایا گیا۔
کریمیا کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ وہ روسی سرزمین اور جزیرہ نما علاقے کے درمیان فیری سروس کا اہتمام کریں گے۔
روس کی انسداد دہشت گردی کی قومی کمیٹی نے کہا کہ ’ماسکو وقت کے مطابق آج شام 06:07 بجے ، جزیرہ نما تمان کے کنارے واقع کریمین پُل کے موٹر وے کے حصے پر ایک کارگو گاڑی میں دھماکہ ہوا، جس سے ایک ٹرین کے سات ایندھن کے ٹینکوں کو آگ لگ گئی جو جزیرہ نما کریمیا جا رہی تھی۔ پل کے دو موٹر وے حصے جزوی طور پر گر گئے۔‘
کریمیا کے پارلیمانی سپیکر ولادیمیر کونسٹنٹینوف نے دھماکے کا الزام ’یوکرین کے غنڈوں‘ پر لگایا جو ’آخر کار اپنے خونی ہاتھ کریمیا کے پل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پل کو پہنچنے والے نقصان کو ’فوری طور پر بحال کیا جائے گا کیونکہ یہ سنگین نوعیت کا نہیں ہے۔‘
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو پُل پر ’ہنگامی صورتحال‘ کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے اور انھوں نے حکومتی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کرمنل انویسٹیگیشن بھی جاری ہے۔
آبنائے کرچ پر 19 کلومیٹر لمبے اس پُل کی تعمیر پر 2.7 بلین پاؤنڈ لاگت آئی تھی اور یہ ماسکو کی جانب سے کریمیا کو غیر قانونی طور پر الحاق کرنے کے چار سال بعد کھولا گیا تھا۔
یہ یورپ کا سب سے طویل پل ہے اور روسی میڈیا نے اسے ’صدی کی تعمیر‘ کے طور پر سراہا ہے۔ روسی حکام نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ’ہوا، زمین یا پانی کے خطرات سے اچھی طرح محفوظ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سڑک کی سطح پر دھماکے کے ٹکڑوں سے ہونے والے واضع نقصان کی کمی بتاتی ہے کہ اس میں فضا سے فراہم کردہ ہتھیار استعمال نہیں کیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ پل کے ’نیچے سے جامع منصوبہ بندی کر کے حملہ کیا گیا ہو۔‘
’شبہ ہے کہ سڑک کے پل اور ٹرین کے ڈیک پر دھماکہ خیز مواد کو ایک ساتھ کوڈڈ ریڈیو کمانڈ کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے ایسا کیا گیا۔‘
یوکرین نے گذشتہ ماہ موسم گرما کے دوران کریمیا پر کئی فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں روس کے ساکی فوجی اڈے پر حملہ بھی شامل تھا۔
یوکرینی فوج نے بڑے علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے جس سے روسی فوجیوں کو طویل عرصے سے زیر قبضہ پوزیشنیں چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
اور ان سارے نقصانات کے بیچ، ماسکو نے افراتفری میں فوجی متحرک کرنا شروع کر دیے ہیں - جس کی وجہ سے روس میں جنگ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اور فوجی عمر کے مردوں کی بڑی تعداد میں اخراج ہوا۔
روسی ٹی وی ٹاک شوز میں، میزبان اور سٹوڈیو کے مہمان اس صورتحال کے بارے میں بڑھتے ہوئے عذاب اور اداسی کا اظہار کر رہے ہیں۔












