پوتن کا یوکرین میں فتح کا خواب جو اب چکنا چور ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سارہ رینزفورڈ
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار برائے مشرقی یورپ
’سچ ہمارے ساتھ ہے اور سچ طاقت ہے۔‘ ولادیمیر پوتن نے گذشتہ ہفتے ریڈ سکوائر میں ایک مائیکرو فون کے ذریعے یہ اعلان اس تقریب کے بعد کیا جس میں انھوں نے یوکرین کے چار حصوں کو روس میں باقاعدہ طور پر ضم کیا۔
’فتح ہماری ہو گی!‘
لیکن اصلی دنیا میں معاملات بہت مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ جب روس کے صدر غیر قانونی الحاق کے معاہدوں پر دستخط کر رہے تھے، اسی وقت ان ہی علاقوں میں یوکرین کی افواج پیش قدمی کر رہی تھیں جن کو روس ضم کرنے کا دعوی کر رہا تھا۔
روس میں جبری فوجی بھرتی اور ہر لمحہ پھیلتی ہوئی جنگ سے بچنے کے لیے ہزاروں کی تعداد مرد ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔
میدان جنگ میں حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ صدر پوتن اور ان کے وفاداروں کو اس جنگ کے مقاصد ازسرنو طے کرنے پڑے ہیں اور اب اسے ’مغرب کے خلاف بقا کی جنگ‘ بتایا جا رہا ہے۔
یہی ’سچ‘ ہے اور اس کا کوئی بھی حصہ روس کا ساتھ نہیں دے رہا۔
اپنے ہی نظام کا شکار
رڈل رشیا کے مدیر اینٹن باربیشن کا کہنا ہے کہ ’پوتن ایک اندھی گلی میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے ان کو دکھائی نہیں دے رہا کہ دراصل ہو کیا رہا ہے۔‘
ان کا خیال ہے کہ صدر پوتن کو مغربی دنیا کی جانب سے یوکرین کی اتنی شدید حمایت کی توقع ہی نہیں تھی اور نہ ہی ان کو یوکرین کی جانب سے اتنی سخت مزاحمت کی امید تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 20 سال سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والے پوتن، جو آج ہی 70 سال کے ہوئے ہیں، اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کا آمرانہ طرز حکومت درست معلومات تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آر پولیٹک فرم کی سربراہ تاتانیہ سٹینوویا کا کہنا ہے کہ ’آپ ان کے خیالات پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔‘
’پوتن کے ساتھ کام کرنے والے دنیا اور یوکرین کے بارے میں ان کے خیالات سے واقف ہیں، اور ان کی توقعات بھی جانتے ہیں۔ وہ ان کو ایسی معلومات فراہم نہیں کر سکتے جو ان کے تصور کے منافی ہوں۔ وہاں اسی طرح کام ہوتا ہے۔‘
صدر پوتن نے اپنے تازہ ترین خطاب، جو کریملن کے سنہرے فانوسوں تلے دیا گیا، میں ایک نئے عالمی نظام کا تصور دوبارہ پیش کیا جس میں روس کو انتہائی طاقت ور اور مغربی دنیا کو بزدل دیکھا جاتا ہے جسے روس کی عزت کرنا اور یوکرین کو ماسکو کی اطاعت کرنا سکھایا جائے گا۔
یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے صدر پوتن نے یوکرین کا میدان جنگ چنا۔ اب جبکہ ان کے مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے، ان کا پسپائی کا کوئی ارادہ نہیں۔
اینٹن باربیشن کہتے ہیں کہ ’ماسکو کا اندازہ غلط ہو گیا اور لگتا ہے کہ پوتن کے پاس کوئی متبادل منصوبہ نہیں تھا، سوائے اس کے کہ وہ لوگوں کو جنگ کے محاذ پر دھکیلیں اور امید کریں کہ تعداد کی بنیاد پر یوکرین کو مزید پیش قدمی سے روک سکیں گے۔‘
ہچکچاتے فوجی
لوگوں کو محاذ کی جانب دھکیلنا خود ہی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ صدر پوتن اس حملے کو اب تک ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دے رہے ہیں جس کے مطابق یہ محدود نوعیت اور مختصر دورانیے کا عمل ہے۔
روسی شہری اس وقت تک اس دعوے کو ماننے اور اس کی حمایت کرنے پر تیار تھے جب تک یہ براہ راست ان کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈال رہا تھا۔ لیکن ریزرو فوجیوں کو بلائے جانے کے فیصلے نے ایک دور دراز معاملے کو قریبی اور خطرات سے بھرپور ذاتی معاملہ بنا دیا ہے۔
علاقائی سیاست دان سویت دور کی طرح اپنے اپنے کوٹے سے زیادہ بھرتیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اینٹن باربیشن کہتے ہیں کہ ’یہ ایک اہم موڑ ہے۔ روس کی اکثریت کے لیے جنگ دو ہفتے پہلے ہی شروع ہوئی ہے۔‘
’جنگ کے آغاز میں ہلاک ہونے والوں کا تعلق چھوٹے شہروں اور مضافاتی علاقوں سے تھا۔ لیکن نئی بھرتی سے یہ سب بدل جائے گا جب تابوت ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ لوٹیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خوفناک حالات
نئی بھرتیوں کے اعلان کے بعد نئے ریکروٹس کی بیویوں اور ماوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
ان میں سے چند کی پوسٹس، جن میں ان ریکروٹس کی بنائی گئی ویڈیوز بھی شامل ہیں، میں خوفناک حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ برا کھانا، پرانے ہتھیار اور بنیادی طبی سامان کی قلت جیسے مسائل۔
کرسک کے علاقائی گورنر نے کئی فوجی یونٹس میں یونیفارم کی قلت کی بھی نشان دہی کی۔
یہ انکشافات صدر پوتن کے سب سے فخریہ دعوے میں چھید کرتے ہیں کہ انھوں نے ’روس کی فوج کو ایک پیشہ ورانہ جنگی طاقت میں بدل دیا ہے جہاں محب وطن شہری خود جانا چاہیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
سنسر شپ کا خاتمہ
بھرتیوں کے مسئلے اور فوجی ہذیمت نے روس کے کئی مشہور افراد کو اس معاملے پر بات کرنے کی ترغیب دی ہے۔
جب آزاد خیال لوگوں نے یوکرین پر حملے کی مذمت کی تھی تو ان کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور کئی اب تک حراست میں ہیں۔
یوکرین پر حملے کو ’جنگ‘ کہنا بھی غیر قانونی ہے۔ تاہم ماسکو کی حمایتیوں میں اب یہ لفظ اور روسی فوجی کمان پر تنقید عام ہو چکے ہیں۔
رکن اسمبلی ایندری کارٹاپولوو نے رواں ہفتے وزارت دفاع پر زور دیا کہ وہ ’روس کی مشکلات پر جھوٹ نہ بولیں کیوں کہ ہمارے لوگ بیوقوف نہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آر ٹی ٹی وی کی ایڈیٹر مارگریٹا سیمونیان نے سٹالن کی مثال دی جب ’بزدلوں‘ اور ’نااہل‘ جرنیلوں کو گولی مار دی جاتی تھی۔
تاہم اب تک اس حملے پر عوامی سطح پر سوال نہیں اٹھایا گیا، صدر پوتن پر تنقید تو دور کی بات ہے۔
مارگریٹا سیمونیان ان کو ’باس‘ بلاتی ہیں اور یوکرین کی علاقوں کو ضم کرنے کے عمل کو ’تاریخی کامیابی‘ گنواتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
تاتانیہ سٹینوویا کا کہنا ہے کہ ’روس میں جنگ مخالف کوئی سیاسی تحریک نہیں۔ بھرتیوں کے مخالف بھی فرار ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کچھ ملک چھوڑ رہے ہیں، کچھ چھپ گئے ہیں۔ لیکن ہم سیاسی مزاحمت کی کوششیں نہیں دیکھ رہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر روس کو مزید شکست کا سامنا کرنا پڑا اور مذید فوجی محاذ پر بھجوانے پڑے تو یہ سب بدل سکتا ہے۔‘
’پوتن کو کچھ فتوحات کی ضرورت ہے۔‘
مغرب سے ’جہاد‘
صدر پوتن نے بھی مسائل کی جانب اس ہفتے اشارہ کیا جب انھوں نے ضم شدہ علاقوں میں صورت حال کی بات کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم روسی مسائل کا ذمہ اس مغربی اتحاد کو قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو یوکرین کی پشت پر کھڑا ہے۔
سرکاری میڈیا پر یوکرین کے علاقوں پر قبضے کی بات اس طرح سے کی جا رہی ہے جیسے قوم کو ایک نئی اور بڑی لڑائی کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
ولادیمیر سولوویو نے اس ہفتے اپنے ناظرین سے کہا کہ ’ہماری جنگ تو مکمل شیطانیت کے ساتھ ہے۔ یہ یوکرین کی بات نہیں۔ مغرب کے ارادے واضح ہیں۔ حکومت کی تبدیلی اور روس کے ٹکڑے کرنا تاکہ روس باقی ہی نہ رہے۔‘
یہ وہ ’سچ‘ ہے جسے پوتن بھی مانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ روس کی کمزوری کا یہ لمحہ خطرات سے بھرپور ہے۔
تاتانیہ سٹینوویا کا کہنا ہے کہ ’یہ روس اور پوتن کی بقا کی جنگ ہے جس میں فتح کو ممکن بنانا لازمی ہے۔ اور ان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔‘
’میرا خیال ہے کہ ان کو اس بات کی امید ہے کہ جوہری دھمکی سے مغرب یوکرین کی مدد سے پیچھے ہٹ جائے گا۔‘
ایسا سوچنے والی وہ اکیلی نہیں۔ اینٹن باربیشن کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ وہ یہی مناتے ہیں کہ یہ روس اور مغرب کی جنگ ہے اور اب ہم آخری لائن پر ہیں چاہے روس بچے یا نہ بچے۔‘
اور یہ وہ ’سچ‘ ہے جو صدر پوتن چاہتے ہیں کہ مغرب بھی تسلیم کر لے۔











