پوتن کی 70ویں سالگرہ: سات ایسے لمحات جو پوتن کی کردار سازی میں اہم ثابت ہوئے

Montage of Vladimir Putin now and as a boy

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مارک گیلیوٹی
    • عہدہ, محقق و مصنف

روسی صدر ولادیمیر پوتن آج 70 برس کے ہو چکے ہیں۔ اُن کی سالگرہ کے موقع پر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اچانک ایسے خود پرست رہنما کیسے بن گئے کہ انھوں نے یوکرین پر ایک تباہ کن حملہ کر ڈالا۔

ان کی زندگی کے سات ایسے لمحات پر نظر دوڑاتے ہیں جو ان کی سوچ کے تعین اور مغرب سے ان کی بڑھتی مفارقت میں اہم ثابت ہوئیں۔

سنہ 1964 میں جوڈو سیکھنے کا فیصلہ

پوتن روس کے شہر لیننگراڈ میں پیدا ہوئے تھے جو اس وقت تک بھی دوسری عالمی جنگ میں 872 دن طویل محاصرے کے بعد سنبھلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم پوتن سکول میں ایک غصیلے اور لڑاکے بچے تھے۔ ان کے بہترین دوست یاد کرتے ہیں کہ وہ ’کسی کے ساتھ بھی لڑائی کر لیتے تھے‘ کیونکہ ’انھیں کسی کا ڈر نہیں تھا۔‘

درمیانے قد کاٹھ کے مالک پوتن کو ایک ایسے شہر میں دوسروں پر برتری حاصل کرنے کے لیے کچھ الگ کرنا تھا جہاں ہر گلی میں ایک گینگ موجود تھا۔ اس لیے 12 سال کی عمر میں انھوں نے روسی مارشل آرٹ ’سامبو‘ سیکھنے کا فیصلہ کیا اور پھر جوڈو سیکھنے لگے۔

وہ پُرعزم اور نظم و ضبط کے پابند تھے اور جب وہ 18 سال کے ہوئے تو اُن کے پاس ایک جوڈو بلیک بیلٹ تھی اور وہ قومی جونیئر مقابلے میں تیسری پوزیشن پر آئے تھے۔

انھوں نے اپنی زندگی کے ان پہلوؤں کو اپنے ظاہری کردار میں مردانگی کا عنصر نمایاں کرنے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن اس سے اُن کا اِس بات پر یقین بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک خطرناک دنیا میں خود اعتمادی اہم ہے اور اُن کے اپنے الفاظ میں جب ایک لڑائی ناگزیر ہو جائے تو ’آپ کو وار کرنے میں پہل کرنی چاہیے اور اتنی کاری ضرب لگانی چاہیے کہ آپ کا دشمن اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو سکے۔‘

سنہ 1968 میں کے جی بی سے نوکری دینے کی درخواست کرنا

عام طور پر لوگ لیننگراڈ میں واقع کے جی بی (روس کی خفیہ ایجنسی) کے سیاسی ہیڈکوارٹر پر جانے سے اجتناب کرتے تھے۔ اکثر افراد سٹالن کے دوران میں اس میں موجود عقوبت خانوں میں رہ چکے تھے اور ان کے لیے اب یہ بات طنزاً کہی جاتی تھی کہ بوشوئی ڈوم (بڑا گھر) لیننگراڈ کی سب سے اونچی عمارت ہے کیونکہ اس کے تہہ خانے سے سائبیریا نظر آتا ہے۔

تاہم 16 برس کی عمر میں پوتن اُس کے سرخ قالین سے آویزاں استقبالیے میں داخل ہوئے اور ڈیسک کے پیچھے بیٹھے افسر سے پوچھا کہ وہ تنظیم (کے جی بی) کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔ انھیں بتایا گیا کہ انھیں ایسا کرنے کے لیے کچھ عرصہ فوج میں کام کرنا ہو گا یا ڈگری حاصل کرنی ہو گی، اس پر پوتن نے یہ بھی پوچھا تھا کہ کون سی ڈگری سب سے موزوں رہے گی؟

انھیں بتایا گیا کہ قانون کی ڈگری بہترین رہے گی اور اس کے بعد سے پوتن نے قانون میں گریجوئیشن کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا جس کے بعد انھیں تنظیم کا باضابطہ حصہ بنا لیا گیا۔ ذہین اور ہوشیار لیکن لڑاکا پوتن کے لیے کے جی بی شہر کا سب سے بڑا گروہ تھا جو اسے بھی سکیورٹی اور ترقی کے مواقع فراہم کرتا تھا جس کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔

تاہم اس کا حصہ بننے سے انھیں چیزیں تبدیل کرنے اور بااثر ہونے کے مواقع بھی ملے جیسے انھوں نے لڑکپن میں دیکھی گئی جاسوسی فلموں کے بارے میں کہا تھا کہ ’ایک جاسوس ہزاروں افراد کی قسمت کا فیصلہ کر سکتا ہے۔‘

سنہ 1971 میں پوتن اپنے ایک کلاس فیلو سے کشتی کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 1971 میں پوتن اپنے ایک کلاس فیلو سے کشتی کرتے ہوئے

سنہ 1989 میں جب پوتن کا ایک مشتعل ہجوم نے گھیراؤ کیا

پوتن کا ’کے جی بی‘ کے ساتھ کریئر کبھی بھی اتنا خوش آئند نہیں رہا جتنا وہ سوچ رہے تھے۔ وہ ایک اچھے کارکن ضرور تھے لیکن ان کی کارکردگی غیرمعمولی نہیں تھی۔ تاہم انھوں نے جرمن زبان سیکھی جس کے باعث انھیں 1985 میں اس وقت مشرقی جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں کے جی بی کے رابطہ دفاتر میں تعینات کیا گیا۔

یہاں انھوں نے ایک پرسکون زندگی کا آغاز کیا لیکن نومبر 1989 میں مشرقی جرمنی کی حکومت کو انتہائی تیزی سے زوال کا سامنا کرنا پڑا۔

پانچ دسمبر کو ایک مشتعل ہجوم نے ڈریسڈن میں ’کے جی بی‘ کی عمارت کا گھیراؤ کیا۔ پوتن نے بار بار قریبی ریڈ آرمی گیریسن سے مدد کی درخواست کرنے کے لیے رابطے کیے اور انھوں نے مایوسی سے جواب دیا ’ہم ماسکو سے احکامات کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتے اور ماسکو خاموش ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پوتن کو طاقت کے مرکز کے اچانک منہدم ہونے سے منسلک خوف کا اس روز احساس ہوا اور انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ سوویت رہنما میخائل گورباشیو کی غلطی کبھی نہیں دہرائیں گے، یعنی مخالفت کا جواب فوری اور مؤثر انداز میں دینے سے نہیں گھبرائیں گے۔

سنہ 1992 میں ’کھانے کے بدلے تیل‘ کے پروگرام کی ذمہ داری

پوتن نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ’کے جی بی‘ چھوڑ دی لیکن پھر سینٹ پیٹرزبرگ کے میئر کے فکسر کی پوزیشن پر تعینات ہوئے۔

اس دوران، معیشت کا بہت بُرا حال تھا اور پوتن کو ایک ایسا معاہدہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی جس سے شہر کے لوگوں کی غذائی ضروریات پوری ہو سکیں۔ پوتن نے 10 کروڑ ڈالر کے تیل اور دھات کے بدلے غذائی اشیا کا معاہدہ کیا۔

تاہم اصل میں کسی نے بھی یہ کھانے پینے کی اشیا نہیں دیکھیں اور بعد میں اس بارے میں کی گئی تحقیقات جو پوتن کی جانب سے فوری طور پر دبا دی گئیں پوتن، ان کے دوستوں اور شہر کے گینگسٹرز نے مل کر اس معاہدے کی رقم کو غبن کیا تھا۔

سیاسی طور پر انتہائی غیر یقینی کا شکار، پوتن 90 کی دہائی میں بہت جلد یہ سمجھ چکے تھے کہ سیاسی اثر و رسوخ کو پیسے کمانے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے اور گینگسٹرز کو اہم اتحادی بھی بنایا جا سکتا ہے۔ جب ان کے اردگرد سب ہی اپنے اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تو وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔

سنہ 2008 میں جارجیا پر حملہ

جب پوتن سنہ 2000 میں روس کے صدر بنے تو انھیں امید تھی کہ وہ مغرب کے ساتھ مثبت تعلقات کی راہ ہموار کریں گے اور وہ ایسا اپنی شرائط پر کرنا چاہتے تھے اور سابق سوویت یونین کے ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بھی بنانا چاہتے تھے۔

تاہم وہ بہت جلد مایوس، اور برہمی کا شکار ہو گئے اور اُن کا خیال تھا کہ مغرب روس کو دیوار سے لگانے اور اسے رسوا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جب جارجیا کے صدر میخائل ساکاشویلی نے نیٹو کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تو پوتن نے اسے جارجیا کا روسی حمایت کے ساتھ علیحدہ ہونے والے خطے جنوبی اوسیٹیا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ سمجھا اور یہ ان کے لیے ایک فوجی آپریشن کا بہانہ بن گیا۔

Woman grieving in Georgia

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجhرجیا میں ایک خاتون رو رہی ہے

صرف پانچ دنوں میں روسی فوج نے جارجیا کی فوج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا اور زبردستی ساکشویلی میں امن معاہدہ کروا لیا۔

مغرب نے اس اقدام پر برہمی کا اظہار کیا لیکن صدر باراک اوباما ایک سال بعد روس سے تعلقات کے ’ازسرِ نو‘ آغاز کی بات کر رہے تھے اور ماسکو کو سنہ 2018 ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق بھی دیا گیا۔

پوتن کو یہاں یہ واضح ہو چکا تھا کہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ اور ایک کمزور اور غیر مستقل مزاج مغرب صرف شور و غوغا کرے گا لیکن آخر کار ایک پرعزم مخالف کا سامنا نہیں کر سکے گا۔

سنہ 2011-13 کے دوران ماسکو میں مظاہرے

روس میں سنہ 2011 کے انتخابات کے بارے میں یہ رائے عام تھی اور یہ مصدقہ بھی تھی کہ اس سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی اور جب پوتن نے سنہ 2012 میں دوبارہ انتخابات میں کھڑے ہونے کے اعلان کیا تو اس کے باعث مظاہرے ہونا شروع ہوئے۔

ماسکو سکوائر مظاہرین سے بھرنے کے باعث ان مظاہروں کا نام ’بولوتنایا مظاہرے‘ رکھا گیا اور یہ پوتن کے خلاف عوامی ردِعمل کا سب سے بڑا اظہار تھا۔

Protests in Moscow in 2013 in support of opposition

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماسکو میں تاریخی مظاہرے

انھیں یقین تھا کہ ریلیوں کے پیچھے دراصل واشنگٹن کا براہ راست ہاتھ تھا اور وہیں سے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی، اس لیے انھوں نے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کو براہ راست اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

پوتن کے لیے شاید یہ ثبوت تھا کہ اب مغرب کی جانب سے جارحانہ انداز اپنایا جا چکا ہے اور وہ براہ راست ان کے خلاف ہیں اور یہ کہ اب وہ حالتِ جنگ میں ہیں۔

سنہ 2020-21 میں کووڈ کے پھیلاؤ کے باعث علیحدہ رہنا

جب سنہ 2020 میں کووڈ 19 پوری دنیا میں پھیلا تو پوتن نے ایک غیر معمولی علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جو ان کی طرح کے رہنماؤں کے لیے بھی غیر معمولی تھا۔ ان سے ملنے کی خواہش کرنے والے کسی بھی شخص کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا اور اس دوران اسے پہرے میں رکھا جاتا تھا اور پھر ان تک پہنچنے سے پہلے اس شخص پر جراثیم کش الٹراوائلٹ روشنی اور سپرے کیا جاتا۔

اس دوران ان سے ملنے والے اتحادیوں اور مشیروں کی تعداد میں ڈرامائی کمی آئی اور صرف ان کے خوشامدی اور حمایتی ہی ان سے ملنے جایا کرتے۔

ایسے میں انھیں متبادل آرا سننے کو نہیں مل رہی تھیں اور وہ اپنے ملک کو بہت کم دیکھا کرتے تھے، پوتن نے شاید یہ ’سیکھ‘ لیا تھا کہ ان کے تمام مفروضے سچے تھے اور ان کی ذہن میں موجود فرسودہ خیالات بھی جائز تھے اور یوں ان کے ذہن میں یوکرین پر حملہ کرنے کے خیالات نے جنم لیا۔

پروفیسر مارک گیلیوٹی ایک محقق اور مصنف ہیں۔