امریکہ-ایران مذاکرات کا امکان: اسلام آباد کا فائیو سٹار ہوٹل حکومتی تحویل میں، راولپنڈی میں ٹرانسپورٹ معطل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق ابھی تک کسی واضح تاریخ یا مقام کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم پاکستانی رہنماؤں کی سفارتی کوششوں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کا دورہ کرنے کے عندیے کے بیچ، پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اتوار کو اسلام آباد کے بڑے فائیو سٹار ہوٹل میریٹ کی انتظامیہ نے اپنے مہمانوں کو اتوار کی دوپہر تین بجے تک ہوٹل خالی کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے اتوار سے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تاحکم ثانی معطل رہنے کا حکم دیا ہے۔
میریٹ ہوٹل کے جنرل مینیجر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت پاکستان نے ایک اہم ایونٹ کے لیے اتوار کی دوپہر تین بجے سے پورا ہوٹل حاصل کر لیا ہے۔ لہذا تمام مہمان تین بجے تک ہوٹل چھوڑ دیں۔‘
نوٹس میں مہمانوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ مہمانوں کے متبادل انتظام کے لیے اُن سے تعاون کرے گی۔
پاکستان، امریکہ اور ایران کی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تاحال باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل یہ عندیہ دیا تھا کہ اگر اسلام آباد میں معاہدہ ہوا تو وہ خود وہاں جائیں گے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کرنے والے سرینا ہوٹل کی انتظامیہ نے بھی آئندہ چند روز کے لیے ریزرویشن بند کر دی ہے۔
بی بی سی کے اعظم خان نے ریزرویشن کے لیے جب اسلام آباد کے سرینا ہوٹل سے رُجوع کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز کے لیے ہوٹل میں کوئی کمرہ دستیاب نہیں ہے۔
نور خان ائربیس کے قریب جتنی بھی ہاوسنگ سوسائٹیز ہیں وہاں پر کرفیو جیسا لاک ڈاؤن ہے اور گلیوں پولیس اہلکاروں کی ایک قابل زکر نفری تعینات ہے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لوگوں کو اپنی نقل و حرکت کو محدود کرنے کا کہا گیا ہے اور ان علاقوں میں قائم مارکیٹوں کو بند کروایا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سکیورٹی انتظامات میں اضافہ
اسلام آباد میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ناکے لگائے جا رہے ہیں جن پر پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہوں گے۔ اسی طرح پنجاب سے بُلائی گئی پولیس کی اضافی نفری بھی اسلام آباد میں فرائض سرانجام دے گی۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی جی اسلام آباد کے احکامات پر شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
اس سے قبل جمعے کو اسلام آباد پولیس نے وضاحت کی تھی کہ شہر کے تمام بس اڈے، بشمول فیض آباد، معمول کے مطابق کھلے ہیں اور ٹرانسپورٹ کی آمدورفت جاری ہے جبکہ قبل ازیں اڈوں کی بندش کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
دوسری جانب نور خان ایئر بیس کے قریب رہائشی آبادیوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہاں کرفیو جیسا لاک ڈاؤن ہے اور گلیوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
لوگوں کو اپنی نقل و حرکت کو محدود کرنے کا کہا گیا ہے اور ان علاقوں میں قائم مارکیٹوں کو بند کروایا جا رہا ہے۔
مختلف علاقوں میں گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری

،تصویر کا ذریعہ@ICT_Police
تفصیلات کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے ضلع بھر میں گرینڈ سرچ آپریشنز کے احکامات جاری کیے، جن کے تحت تھانہ کرپا، تھانہ سمبل، تھانہ سیکریٹریٹ، تھانہ کھنہ، تھانہ انڈسٹریل ایریا، تھانہ بنی گالہ اور تھانہ ترنول کے علاقوں میں کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
آپریشنز کے دوران 712 افراد اور 1108 گھروں کی چیکنگ کی گئی جبکہ 182 دکانوں اور 32 ہوٹلوں کی بھی تلاشی لی گئی۔ مزید برآں 381 موٹر سائیکلوں اور 141 گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔
کارروائی کے دوران 20 افغان باشندوں، 56 مشکوک افراد، 2 گاڑیوں اور 47 موٹر سائیکلوں کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تھانوں میں منتقل کیا گیا۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے مختلف بور کے چار پستول بمعہ ایمونیشن برآمد کیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہ@chemajournalist
شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر مؤثر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں جبکہ تمام پٹرولنگ یونٹس اور خصوصی سکواڈ شہر بھر میں مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ سینیئر افسران بھی فیلڈ میں موجود ہیں اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چیکنگ کے دوران پولیس سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ کے ایک اہلکار نے جمعے کو بی بی سی کو بتایا کہ حکام کی جانب سے انھیں یہ ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ جمعرات کی رات گیارہ بجے وفاقی دارالحکومت میں واقع جتنے بھی پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈے ہیں، ان کو بند کردیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کی مدد سے تمام اڈے بند کروا دیے گئے تھے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے یہ اڈے فیض آباد، پیرودھائی، منڈی موڑ اور 26 نمبر چونگی پر واقع ہیں۔
اہلکار کے مطابق جس وقت اسلام آباد کی حدود میں ان اڈوں کو بند کیا جارہا تھا تو دوسری جانب راولپنڈی کی انتظامیہ بھی پولیس کی مدد سے ان کی حدود میں واقع اڈوں کو بند کروا رہی تھی۔
























