’روس کے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے کوئی آثار نہیں‘

یوکرین

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, گورڈن کوریرا
    • عہدہ, سیکورٹی نامہ نگار، بی بی سی نیوز

برطانیہ کے اہم سیکیورٹی امور سے متعلق ادارے جنرل آفس آف کمیونیکیشن (جی سی ایچ کیو) کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ روس یوکرین کی جنگ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔

حال ہی میں دیگر امریکی اور مغربی عہدیداروں کی طرح سر جیریمی فلیمنگ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ مشتبہ سرگرمی کے کوئی آثار موجود ہیں۔

بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے سر جیریمی نے متنبہ کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے بارے میں کوئی بھی بات "بہت خطرناک" ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر روس جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی طرف بڑھے گا تو جی سی ایچ کیو کو امید ہے کہ اسے اشارے مل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے بارے میں کوئی بھی بات بہت خطرناک ہے اور ہمیں اس بارے میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم اس کے بارے میں کس طرح بات کر رہے ہیں۔

'میرے لیے یہ واضح ہے کہ اگرچہ ہم روسی فوجی کارروائیوں اور صدر پوتن کے جنگ کرنے کے حربوں کو پسند نہیں کرتے ہیں اور بہت سے طریقوں سے نفرت کرتے ہیں، لیکن وہ جوہری ہتھیاروں سمیت ان کے استعمال کے لیے طےشدہ نظریے کے اندر رہ رہے ہیں جسے ہم ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'مجھے یقین ہے کہ پوتن کشیدگی میں اضافے کے خطرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ ان کے بارے میں مختلف انداز میں سوچتے ہوں گے۔ لیکن میرے خیال میں یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ جنگ کرنے کی ان دوسری صورتیں اختیار نہیں کرنا چاہتے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ منگل کو ایک تقریر میں یہ کہنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ یوکرین "تھکی ہوئی" روسی افواج کے خلاف جنگ کا رخ موڑ رہا ہے۔

وہ کہیں گے کہ صدر ولادیمیر پیوتن کی فیصلہ سازی "ناقص" ثابت ہوئی ہے۔

سر جیریمی رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سالانہ سکیورٹی لیکچر میں اپنی تقریر میں کہیں گے کہ 'ہم جانتے ہیں اور زمینی سطح پر موجود روسی کمانڈر جانتے ہیں کہ ان کی رسد اور گولہ بارود ختم ہو رہا ہے۔

وہ یہ دلیل دیں گے کہ قیدیوں اور نا تجربہ کار افراد کو متحرک کرنا "ایک مایوس کن صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے" اور صدر پوتن کو تنہا ہو جانے اور غلطیاں کرنے پر براہ راست تنقید کا نشانہ بھی بنائیں گے۔

روسی فوج کی حالت کے بارے میں ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ، سر جیریمی نے کہا کہ اس کے پاس "اسلحے کی کمی ہے" اور "یقینی طور پر دوستوں کی کمی ہے"۔

انہوں نے کہا، "میں نے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ مایوس کن ہے۔ "ہم روسی معاشرے اور روس کی فوجی مشین کے اندر کئی سطحوں پر پائی جانے والی اس مایوسی کو دیکھ سکتے ہیں."

تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ پیر کے روز یوکرین میں اہداف پر میزائل حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اب بھی نقصان پہنچانے کی 'انتہائی صلاحیت' رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: "روس کی فوجی مشین ہتھیار لانچ کر سکتی ہے، اس کے پاس گہرے ذخیرے اور مہارت ہے۔ اور پھر بھی، یہ یوکرین میں بہت وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے. "

انٹیلی جنس چیف اس بات پر بھی زور دیں گے کہ جب چین کی بات آتی ہے تو برطانیہ اور اس کے اتحادی ایک فیصلہ کن موڑ پر ہیں۔

انٹیلی جنس، سائبر اور سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جنگ کے نتیجے میں روس کو ہونے والے اخراجات، افرادی قوت اور سازوسامان کے لحاظ سے توقعات سے زیادہ اٹھانے پڑے ہیں ہیں کیونکہ ابتدائی حاصل ہونے والے فوائد اب زائل ہو گئے ہیں۔

'کسی بھی قسم کی اندرونی مخالفت کےبغیر، ان کی فیصلہ سازی ناقص ثابت ہوئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا جوا تھا جو اب دفاعی حکمت عملی میں غلطیوں کا باعث بن رہا ہے۔'

سر جیریمی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ روسی عوام اب پوتن کی 'پسند کی جنگ' کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو سمجھنے لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ پوتن کے اندازے کس قدر غلط ثابت ہوئے اور انہوں نے صورتحال کو سمجھنے میں بری طرح غلطی کی۔

'وہ عام لام بندی سے بھاگ رہے ہیں، وہ یہ محسوس کرتے کہ وہ اب بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے ہیں. وہ جانتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی اثرات تک ان کی رسائی انتہائی محدود ہو گی ہے۔'

مارچ میں ایک تقریر میں سر جیریمی نے کہا تھا کہ انٹیلی جنس نے اطلاعات کے مطابق یوکرین میں کچھ روسی فوجیوں نے احکامات پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا، اپنے ہی سازوسامان کو سبوتاژ کیا تھا اور حادثاتی طور پر اپنے ہی ایک طیارے کو مار گرایا تھا۔

سربراہ جی سی ایچ کیو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹیکنالوجی کی خریداری کے بارے میں انتباہ کریں گے

منگل کے روز ان کے لیکچر کا زیادہ تر حصہ چین پر مرکوز ہے۔ وہ برطانیہ کو "سلائڈنگ دروازوں کے لمحے" کے طور پر بیان کریں گے جس میں مختلف راستے مستقبل کی وضاحت کریں گے.

ان کا کہنا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کا مقصد اس ٹیکنالوجی میں ہیرا پھیری کرنا ہے جو لوگوں کی زندگیوں کو سہارا دیتی ہے تاکہ وہ اندرون و بیرون ملک اپنا اثر و رسوخ قائم کر سکے اور نگرانی کے مواقع فراہم کر سکے۔

تاہم انٹیلی جنس چیف کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کو ٹک ٹاک استعمال کرنے سے نہیں روکیں گے جو چینی فرم بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو اپنے ذاتی ڈیٹا کے بارے میں زیادہ محتاط اور آگاہ ہونا چاہیے اور کہ اسے کس طرح شیئر کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے کو بتایا کہ 'نہیں، میں (بچوں کو ٹک ٹاک استعمال کرنے سے نہیں روکوں گا) لیکن میں اپنے بچوں سے اس بارے میں بات کروں گا کہ وہ اپنے ڈیوائس پر موجود اپنے ذاتی ڈیٹا کے بارے میں کس طرح سوچتے ہیں۔

"مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت کم عمری سے ہی واقعی اہم ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ یہاں کوئی چیز مفت نہیں ہے. جب ہم ان سہولیات کا استعمال کر رہے ہیں تو ہم اس کے لئے اپنے اعداد و شمار کا تبادلہ کر رہے ہیں اور اگر یہ متناسب ہے اور ہم اس ڈیٹا کی حفاظت کے طریقے سے خوش ہیں تو یہ بہت اچھا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ "اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں، وہ ویڈیوز بنائیں، ٹک ٹاک کا استعمال کریں - لیکن ایسا کرنے سے پہلے صرف سوچیں."

وہ اس بارے میں بھی متنبہ کریں گے کہ چین دنیا بھر کے ممالک کو ٹیکنالوجی برآمد کرکے 'کلائنٹ معیشتوں اور حکومتوں' کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کی دانست میں چینی ٹیکنالوجی خریدنے والے یہ ممالک نظر نہ آنے والے اخراجات کے ساتھ چینی ٹیکنالوجی کی خریداری کرکے اپنے'مستقبل کو گروی رکھنے' کا خطرہ مول لے رہے ہیں.

وہ کہیں گے کہ ان میں ایسے شعبے شامل ہیں: انٹرنیٹ کے لیے نئے معیارا جو ٹریکنگ کے طریقوں اور زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول فراہم کرسکتے ہیں، چینی ڈیجیٹل کرنسیاں - جو صارفین کے لین دین کی نگرانی اور روس پر عائد پابندیوں کی اقسام سے بچنے کی کوشش کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں اور چینی سیٹلائٹ سسٹم کے منصوبے جس سے یہ خدشات جنم لیتے ہیں کہ اسے افراد پر نظر رکھنے کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔