روس یوکرین تنازع: روس کے صدر ولادیمیر پوتن کیا منصوبہ بنا رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, اسٹیو روزنبرگ
- عہدہ, روس ایڈیٹر، ماسکو
یہ وہ سوال ہے جو ہم کئی مہینوں سے پوچھ رہے ہیں، حتیٰ کہ روس کے یوکرین پر حملہ کرنے سے بھی بہت پہلے سے۔
ولادیمیر پوتن کی سوچ اور منصوبہ بندی کیا ہے؟
میں پہلے ہی وضاحت کردوں کہ میرے پاس کریملین کی کرسٹل بال نہیں ہے۔ نہ ہی میرے پاس پوتن براہ راست فون پر ہیں۔
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک بار کہا تھا کہ انھوں نے ولادیمیر پوتن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تو ’انھیں ان کی فطرت سمجھ آ گئی تھی‘۔
اگرچہ کریملین کے رہنما کے ذہن تک پہچنا ایک بہت ہی مشکل کام لیکن کوشش کرنا ضروری ہے۔ ماسکو کی طرف سے حالیہ جوہری ہتھیاروں کی ہلچل کی روشنی میں شاید اب پہلے سے کہیں زیادہ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی صدر دباؤ میں ہیں۔ یوکرین میں ان کا نام نہاد ’خصوصی فوجی آپریشن‘ ان کے لیے بری طرح ناکام ہوا ہے۔
یہ کچھ دن چلنے والا تھا لیکن تقریباً آٹھ ماہ ہوگئے ہیں اور اس کا خاتمہ نظر نہیں آتا۔
کریملن نے ’اہم‘ فوجی نقصانات کا اعتراف کیا۔ حالیہ ہفتوں میں روسی فوج یوکرین میں وہ علاقہ کھو رہی ہے جس پر اس نے پہلے قبضہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوجیوں کی تعداد کو بڑھانے کے لیے، پچھلے مہینے صدر پوتن نے جزوی طور پر متحرک ہونے کا اعلان کیا تھا، جس کے بارے میں پہلےان کا اصرار تھا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ دریں اثنا، پابندیاں روسی معیشت کو تباہ کر رہی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں اعلیٰ روسی حکام (بشمول خود پوتن) غیر واضح اشارے دے رہے ہیں کہ کریملن رہنما اس تنازعے میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے سی این این کو بتایا، ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایسا کریں گے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کا اس کے بارے میں بات کرنا غیر ذمہ دارانہ فعل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یوکرین پر اس ہفتے کی شدید روسی بمباری سے پتہ چلتا ہے کہ کریملین کم از کم کیئو کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
مغرب کے ساتھ بھی؟
’وہ مغرب کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس کے لیے بھی تیار ہے،‘ یہ تجربہ کار لبرل سیاست دان گریگوری یاولنسکی کا خیال ہے۔
ان کے کہنا ہے کہ ’مجھے سب سے زیادہ جوہری تصادم کے امکان کا خوف ہے اور دوسری جگہ، مجھے لامتناہی جنگ کا خوف ہے۔‘
لیکن ’نہ ختم ہونے والی جنگ‘ کے لیے لامتناہی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ روس کے پاس نہیں ہیں۔ یوکرین کے شہروں پر میزائل حملوں کی لہر طاقت کا ایک ڈرامائی مظاہرہ ہے، لیکن ماسکو اسے کب تک برقرار رکھ سکتا ہے؟
ریمچوکوف کہتے ہیں، ’کیا آپ میزائلوں کے اس تسلسل کو دنوں، ہفتوں، مہینوں تک جاری رکھ سکتے ہیں؟ بہت سے ماہرین کو شبہ ہے کہ ہمارے پاس شاید ہی کافی میزائل موجود ہیں۔‘
’اس کے علاوہ، فوجی نقطہ نظر سے، کسی نے کبھی نہیں کہا کہ حتمی (روسی) فتح کی علامت کیا ہوگی؟ فتح کی علامت کیا ہے؟ 1945 میں یہ برلن کے اوپر بینر تھا۔ کامیابی کا معیار کیا ہے؟ اب؟ (ایک بینر) کیئو پر؟ کھیرسن کے اوپر؟ خارخیو کے اوپر؟ میں نہیں جانتا۔ کوئی نہیں جانتا۔‘
یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا یہ ولادیمیر پوتن بھی جانتے ہیں۔
فروری میں، ایسا لگتا تھا کہ کریملین کا مقصد یوکرین کی تیزی سے شکست ہے، جو روس کے پڑوسی کو بغیر کسی طویل جنگ کے ماسکو کے مدار میں واپس آنے پر مجبور کر دے گا۔ ان کا اندازہ غلط تھا۔ انھوں نے اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے یوکرین کی فوج اور لوگوں کے عزم کو کم سمجھا، اور بظاہر اپنی فوج کی صلاحیتوں کو زیادہ سمجھا۔
اب وہ کیا سوچ رہے ہیں؟ کیا ولادیمیر پوتن کا تنازع کے دوران قبضے میں لی گئی یوکرینی سرزمین پر کنٹرول کو مضبوط کرنے کا منصوبہ ہے جس نے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے روس کے ساتھ الحاق کر لیا ہے۔ یا کیا وہ اس وقت تک آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں جب تک کہ پورا یوکرین کریملین کے اثر و رسوخ کے دائرے میں واپس نہ آجائے؟
اس ہفتے سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے لکھا ’یوکرینی ریاست اپنی موجودہ ترتیب میں۔۔۔ روس کے لیے ایک مستقل، براہ راست اور واضح خطرہ ہو گی۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارے مستقبل کے اقدامات کا مقصد یوکرین کی سیاسی حکومت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
اگر میدویدیف کے الفاظ صدر پوتن کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، تو ایک طویل اور خونریز تصادم کی توقع رکھیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ بھی پڑھیے
لیکن لامحالہ پوتن کے بیرون ملک اقدامات کے اندرون ملک نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ برسوں سے کریملین نے بڑی محنت سے پوتن کی ’مسٹر اسٹیبلٹی‘ کی شبیہ کو فروغ دیا، جس نے روسی عوام کو یہ یقین کرنے کی ترغیب دی کہ جب تک وہ انچارج ہیں وہ محفوظ رہیں گے۔
اب یہ کہنا مشکل ہے۔
ریمچوکوف کہتے ہیں ’پوتن اور معاشرے کے درمیان پچھلا معاہدہ یہ تھا کہ ’میں آپ کی حفاظت کرتا ہوں‘۔
’کئی سالوں سے اصل نعرہ ’پیش گوئی‘ تھا۔ آج کس قسم کی پیشین گوئی ہے؟ تصور ختم ہو گیا ہے۔ کچھ بھی پیشین گوئی کے قابل نہیں ہے۔ میرے صحافی نہیں جانتے کہ آج جب وہ گھر پہنچیں گے تو انھیں کال اپ پیپر موصول ہوں گے یا نہیں۔‘
ولادیمیر پوتن کے یوکرین پر حملے کے فیصلے نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ لیکن یاولنسکی حیران نہیں ہوئے۔
یاولنسکی کہتے ہیں ’میرا خیال ہے کہ (پوتن) اس سمت میں آگے بڑھ رہے تھے، سال بہ سال وہ وہ راستہ بنا رہے تھے آج کی صورتحال کے لیے۔‘
’مثال کے طور پر آزاد میڈیا کو تباہ کرنا۔ انھوں یہ کام 2001 میں شروع کیا۔ آزاد کاروبار کو تباہ کرنا۔ انھوں نے اسے 2003 میں شروع کیا۔ پھر 2014 اور کریمیا اور ڈونباس کے ساتھ کیا ہوا۔ اسے نہ دیکھنے کے لیے آپ کو اندھا ہونا پڑے گا۔‘
’روس کا مسئلہ ہمارا نظام ہے۔ یہاں ایک ایسا نظام بنایا گیا جس نے ایک ایسے شخص کو پیدا کیا (پوتن جیسا)۔ اس نظام کو بنانے میں مغرب کے کردار کا سوال بہت سنگین ہے۔
’مسئلہ یہ ہے کہ اس نظام نے کوئی معاشرہ نہیں بنایا۔ روس میں بہت اچھے لوگ ہیں، لیکن کوئی سول سوسائٹی نہیں ہے۔ اس لیے روس مزاحمت نہیں کر سکتا۔‘













